وی اون گروپ کا موبی لنک میں 20 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-08-2
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) ایس آئی ایف سی کی دوراندیش معاشی حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان کے ڈیجیٹل بینکاری نظام پر عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔سال 2026 کے آغاز پر پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ایک نمایاں اور حوصلہ افزا غیر ملکی سرمایہ کاری سامنے آئی ہے۔ عالمی ڈیجیٹل آپریٹر وی اون گروپ کی جانب سے موبی لنک بینک میں 20 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے۔پاکستان کے ڈیجیٹل اور اسلامی بینکاری شعبے میں بڑی پیش رفت بھی ہوئی۔ یہ پیش رفت جنوری 2025 کی 15 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا تسلسل ہے جو موبی لنک بینک کی مسلسل ترقی اور ڈیجیٹل مالیاتی ایکو سسٹم پر عالمی اعتماد کی عکاس ہے۔وی اون گروپ کے مطابق یہ سرمایہ کاری اعلیٰ اثر رکھنے والے ڈیجیٹل مالیاتی ایکو سسٹمز کو مضبوط بنانے کی عالمی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔