معاشی استحکام، 2026 ملکی معیشت کے لیے فیصلہ کن سال
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
نیا سال 2026 پاکستانی معیشت کیلیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے، 2025 میں معاشی استحکام کے بعداب اصل امتحان یہ ہے کہ اس استحکام کو دیرپا اور جامع ترقی میں بدلا جا سکتا ہے یا نہیں؟
گزشتہ دہائی سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نموآبادی کی رفتارسے بمشکل ہم آہنگ رہی ہے، جس کے نتیجے میں آمدن جمود کا شکار اور علاقائی ممالک سے فاصلہ بڑھتا گیا ہے۔
اگر استحکام روزگاراورآمدن میں اضافے میں تبدیل نہ ہواتو اصلاحات کیلیے عوامی حمایت کمزور پڑسکتی ہے،اس لیے 2026 کا بڑاچیلنج استحکام سے آگے بڑھ کرتیزاور جامع ترقی کی راہ اپناناہے۔
حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ اس مقصدکیلیے محدودمگر اہم موقع موجودہے۔ عالمی سطح پر تیل سمیت اجناس کی کم قیمتوں نے مہنگائی کو قابومیں رکھاہے،ریکارڈترسیلاتِ زر نے جاری کھاتے کوسہارادیاہے اور اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط کارکردگی بہتر سرمایہ کار اعتمادکی عکاس ہے۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ ان سازگار حالات کو پائیدار ترقی میں بدلاجائے،جو معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچے۔
اس مقصدکیلیے چار ترجیحات صنعت اورزراعت کی بحالی،خدماتی شعبے میں حکومتی عمل دخل میں کمی،عالمی معیشت کے ساتھ گہراانضمام اور حکمرانی کے نظام کی اصلاح پر توجہ درکارہے۔
صنعتی ترقی کیلیے ٹیکسٹائل پر انحصارسے نکل کر اعلیٰ قدروالی انجینئرنگ مصنوعات جیسے موبائل فون،دفاعی سازوسامان اور صارفین کی پائیدار اشیاکی تیاری کی جانب جاناہوگا۔
دفاعی پیداوار میں استعدادکے باوجود پاکستان کاعالمی دفاعی برآمدات میں حصہ نہایت کم ہے،حالانکہ جے ایف17 تھنڈر جیسے پلیٹ فارمز میں عالمی دلچسپی نمایاں مواقع کی نشاندہی کرتی ہے۔
اسی طرح موبائل فون اورکنزیومر ڈوریبلز میں درآمدی متبادل سے آگے بڑھ کر برآمدات پر مبنی حکمتِ عملی اپناناہوگی۔ سی پیک فیز ٹوصنعتی اپ گریڈیشن، ٹیکنالوجی منتقلی اور برآمدی نموکیلیے اہم موقع فراہم کرتاہے۔ زراعت کمزور شعبوں میں شامل رہی،جس کی بنیادی وجہ ساختی مسائل ہیں۔
مسابقت کیلیے شعبے کوکھولنا،جدیدبیجوں،ٹیکنالوجی اوروسائل تک رسائی آسان بناناناگزیر ہے۔ روایتی فصلوں پر بھاری سبسڈی اعلیٰ قدروالے شعبوں جیسے باغبانی،دالیں اور تیل دار اجناس کو پیچھے دھکیل رہی ہے،جہاں پاکستان کو بڑے تجارتی خسارے کاسامناہے۔
مویشی پالنا،جوزرعی جی ڈی پی کاتقریباً 60 فیصدہے،خدماتی شعبے خصوصاً ٹیلی کام اور توانائی میں بھی حکومتی بالادستی کارکردگی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے،سرمایہ کاری کوترجیح دینے سے براڈبینڈ، 5G اورتوانائی کی تقسیم میں بہتری آسکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی گورننس وکرپشن تشخیصی رپورٹ نے واضح نشاندہی کی ہے کہ کن شعبوں میں اصلاحات درکار ہیں،کمزوریوں پر پالیاجائے تو پانچ برس میں معاشی نموموجودہ رجحانات سے 5 سے 6.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔