اردو کے عملی نفاذ کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا‘مقررین
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر)اردو کے عملی نفاذ کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔حکمراں اردو کا نفاذ نہ کر کے آئین کی توہین کررہے ہیں ۔اردو نے ہی پاکستان کو متحد کیا ہوا ہے ۔یہ بات تحریک نفاذ اردو پاکستان کے 271ویں ماہانہ اجلاس سے تحریک نفاذ اردو پاکستان کے مرکزی صدر سید صلاح الدین اختر ،جنرل سیکریٹری محمد قاسم جمال اور معروف سماجی رہنما اور روزنامہ پاسبان کے ایڈیٹر الحاج نجمی نے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔سید صلاح الدین اختر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد ڈاکٹر سید مبین اختر نے نفاذ اردو کیلئے بڑی جدوجہد کی ہے اور مسلسل270ماہانہ اجلاس منعقد کئے اور نفاذ اردو کیلئے بڑی جدوجہد کی اور ان کے انتقال کے بعد یہ جدوجہد یہ کام رک گیا تھا ۔ہم نے یہ کام دوبارہ وہی سے شروع کیا ہے اور ماہانہ اجلاس جاری رہے گے اور ہم شہر کی ہم ادبی اور سماجی شخصیات کو مدعو کر ینگے اور نفاذ اردو کی جدوجہد تیز کی جائے گی ۔تحریک نفاذ اردو پاکستان کے صدر محمدقاسم جمال نے کہا کہ نفاذ اردو کے حوالے سے ملک بھر میں دیگر تنظیمیں بھی کام کررہی ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے ۔ہم تمام تنظیموں کی مشاورت کے ساتھ کام کرینگے اورسوشل میڈیا یا ون مین شو کے بجائے عملی اقدامات کئے جائیں گے اور ڈاکٹر مبین اختر مرحوم کے ہاتھ کے لگائے ہوئے پودے کی بھرپور نگہداشت کی جائے گی اور ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں ایوان اردو مین اردو کی نشست ہوگی ۔الحاج نجمی نے کہا کہ نفاذ اردو کیلئے سب کو مل جل کر جدوجہد کرنا ہوگی نفاز اردو کی جدوجہد میں ہم سید صلاح الدین کے ساتھ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نفاذ اردو کی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔