چند روز کے دوران لاہور کی نجی یونیورسٹی میں ایک اور سانحہ، طالبہ نے دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ڈی فارمیسی کے پہلے سمسٹر کی طالبہ فاطمہ نے مبینہ طور پر یونیورسٹی کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی۔
واقعے کے فوراً بعد طالبہ کو یونیورسٹی کے ساتھ واقع ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ آئی سی یو میں زیرِ علاج ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ فاطمہ کو اس کا بھائی معمول کے مطابق یونیورسٹی چھوڑ کر گیا تھا تاہم واقعے کی اصل وجوہات تاحال سامنے نہیں آ سکیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ جبکہ یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی آف لاہور میں ایک طالبہ کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش، طالبہ کو فریکچرز آئے۔ خودکشی کی کوشش اسی مقام پر کی گئی جہاں گزشتہ دنوں ایک طالب علم نے خودکشی کی تھی۔!!! pic.
— Nadir Baloch (@BalochNadir5) January 5, 2026
اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر کارروائی شروع کردی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ ڈی فارم کی طالبہ اور نارنگ منڈی ضلع شیخوپورہ کی رہائشی ہے۔
واضح رہے کہ 23 دسمبر کو بھی یونیورسٹی آف لاہور میں اسی نوعیت کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھا جہاں طالب علم محمد اویس نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی۔
بعد ازاں مرحوم کے بھائی نے الزام عائد کیا تھا کہ محمد اویس کو اساتذہ کی جانب سے شدید ذہنی دباؤ اور ہراسانی کا سامنا تھا۔ ان کے مطابق حاضری کم ہونے کے باعث محمد اویس کو امتحان میں بیٹھنے سے روکنے کی دھمکی دی جا رہی تھی جس پر اس نے اپنی استاد سے درخواست کی تھی کہ ایسا کرنے سے اس کا پورا سیمسٹر ضائع ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فاطمہ انتقال فاطمہ خود کشی یونیورسٹی میں خود کشی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فاطمہ انتقال فاطمہ خود کشی یونیورسٹی میں خود کشی منزل سے چھلانگ لگا خودکشی کی
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.