بنگلہ دیش میں انتخابات: امن و امان کے لیے سیکیورٹی اداروں کو غیر معمولی اختیارات تفویض
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش نے آئندہ قومی انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو غیر معمولی اختیارات دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
مشیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد جہانگیر عالم چوہدری کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پولنگ اسٹیشنز سمیت کسی بھی مقام پر ممکنہ بدامنی کو بروقت روکنے کے لیے کسی بھی وقت داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔
وزارتِ داخلہ ڈھاکہ میں امن و امان سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے 19ویں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انتخابی مدت کے دوران سکیورٹی اداروں کو باہمی رابطے کے ساتھ مزید فعال اور مؤثر انداز میں کام کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
مشیرِ داخلہ نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی مہمات امن و امان کی صورتحال کو متاثر نہ کریں۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ پُرامن انتخابی ماحول کے قیام میں تعاون کریں اور ضابطۂ اخلاق کی مکمل پابندی کریں۔
محمد جہانگیر عالم چوہدری نے خبردار کیا کہ سڑکیں بند کرنے یا عوام کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچانے کی صورت میں سیکیورٹی ادارے فوری کارروائی کریں گے اور اس ضمن میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
مزید پڑھیں:
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں انٹیلیجنس نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے اور مختلف سیکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
جولائی کی عوامی تحریک کے رہنما شریف عثمان بن ہادی کے قتل کیس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس کا حتمی چالان جلد پیش کر دیا جائے گا۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں کو متنبہ کیا کہ وہ چوکنا رہیں تاکہ تخریبی یا انتہاپسند عناصر سیاسی اختلافات کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
مشیرِ داخلہ نے 13 دسمبر 2025 کو شروع کیے گئے ’آپریشن ڈیول ہنٹ: فیز 2‘ سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 14 ہزار 569 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ اس دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:
’زیرِ التوا مقدمات اور وارنٹس کے تحت ہونے والی گرفتاریوں کو شامل کیا جائے تو ملک بھر میں مجموعی طور پر 33 ہزار 804 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ جرائم کی روک تھام کے لیے چیک پوسٹس اور گشت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں موسمِ سرما کی شدید دھند کے باعث سڑکوں کی حفاظت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، سوشل میڈیا پر افواہوں اور اشتعال انگیز مواد کی روک تھام، اور بنگلہ دیش اور میانمار سرحد پر سکیورٹی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹیلیجنس بنگلہ دیش جہانگیر عالم چوہدری ڈھاکہ سوشل میڈیا ضابطہ اخلاق قومی انتخابات مشیر داخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹیلیجنس بنگلہ دیش جہانگیر عالم چوہدری ڈھاکہ سوشل میڈیا ضابطہ اخلاق قومی انتخابات مشیر داخلہ بنگلہ دیش انہوں نے کسی بھی کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔