ثقافتی تقریب میں متنازع گانا، قوال فراز خان کیخلاف مقدمہ، عبوری ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: سرکاری سرپرستی میں منعقدہ میوزیکل نائٹ شو کے دوران اڈیالہ جیل کے قیدی 804 سے منسوب گانا گانے پر معروف قوال فراز خان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ عدالت نے ملزم کو عبوری ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج نے قوال فراز خان کی عبوری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 13 جنوری تک ضمانت دے دی، اس موقع پر قوال فراز خان عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ گانا گانے پر مقدمہ درج ہو جائے گا تو وہ کبھی یہ کلام پیش نہ کرتے۔
پولیس کے مطابق والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے زیرِ اہتمام شالیمار باغ میں چاندنی راتوں کے عنوان سے میوزک اینڈ کلچرل نائٹ کا انعقاد کیا گیا تھا جو ایک ثقافتی نوعیت کی تقریب تھی پروگرام کے دوران قوال فراز خان اور ان کے ساتھیوں نے قوالی پیش کی تاہم اڈیالہ جیل کے قیدی 804 سے منسوب گانا گانے پر انتظامیہ نے مداخلت کرتے ہوئے قوالی بند کرا دی۔
بعد ازاں انچارج شالیمار باغ ضمیر کی مدعیت میں تھانہ شالیمار میں قوال فراز خان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں، ثقافتی تقریب میں کسی قسم کے سیاسی مواد یا نعرے بازی کی اجازت نہیں ہوتی، اس کے باوجود دانستہ طور پر سیاسی نوعیت کا نغمہ گایا گیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ گانے کے باعث مجمع میں جوش و اشتعال پیدا ہوا، امنِ عامہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا اور تقریب کے غیر سیاسی اور ثقافتی مقصد کو نقصان پہنچا، اس عمل سے ایک سرکاری ادارے کی غیر جانبداری اور وقار مجروح ہوا۔
قوال فراز خان نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا کہ انہوں نے یہ گانا سامعین کی فرمائش پر گایا تھا، اس کے باوجود ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
واضح رہے کہ شالیمار باغ میں منعقدہ یہ پروگرام عوام کے لیے کھلا تھا جبکہ اس واقعے نے ثقافتی تقریبات کے ضابطوں اور اظہارِ فن کی آزادی سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قوال فراز خان
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔