لاہور میں واقع ایک نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے طلبا کی حفاظت اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تمام تدریسی سرگرمیاں معطل کر دیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کلاسز آن لائن منتقل کرنے اور یونیورسٹی بلڈنگز کو وقتی طور پر بند رکھنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق آئندہ ہدایات تک کسی بھی قسم کا تدریسی عمل نہیں ہوگا، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ طلبا کی ذہنی اور جسمانی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

اسپتال منتقل

طالبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے بعد اسے لاہور جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ طبی ماہرین نے مختلف ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد ابتدائی طبی رپورٹ تیار کر لی ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبہ تاحال ہوش میں نہیں آ سکی اور اس کی حالت تشویشناک قرار دی گئی ہے۔ طبی معائنہ میں انکشاف ہوا ہے کہ مریضہ کے دماغ میں باریک رگوں سے خون رس رہا ہے جبکہ دماغ میں شدید سوجن بھی موجود ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مریضہ کا بائیں پھیپڑا بری طرح متاثر ہوا ہے۔

لاہور یونیورسٹی کی طالبہ فاطمہ نے یونیورسٹی میں تیسری منزل سے چھلانگ لگادی ۔ فاطمہ شدید زخمی ہو کر آئی سی یو میں ہے ۔ وجوہات نامعلوم ۔
اسی جامعہ میں چند دن پہلے اویس سلطان نے خودکشی کی تھی۔ pic.

twitter.com/flLxSEMOC2

— Tariq Mateen (@tariqmateen) January 5, 2026

طبی رپورٹ کے مطابق مریضہ کے دونوں پاؤں کی ایڑیوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں جبکہ ریڑھ کی ہڈی کے دوسرے اور تیسرے مہرے دب گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مریضہ کے بائیں گھٹنے کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی ہے۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریضہ کو آئی سی یو میں منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں ٹیوب کے ذریعے پھیپڑے کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انتظامیہ کے مطابق واقعے سے متعلق تمام طبی رپورٹس پولیس کو جمع کرا دی گئی ہیں۔

’طالبہ کی حالت خطرے سے باہر ہے‘

یونیورسٹی کے رجسٹرار علی اسلم نے بتایا کہ صبح یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی تھی، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ طالبہ اب خطرے سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبہ نے ستمبر میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔

رجسٹرار کے مطابق ملک میں بڑی تعداد میں لوگ ذہنی دباؤ اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل اویس سلطان کے واقعے پر بننے والی انکوائری کمیٹی اپنی فائنڈنگز مکمل کر چکی ہے۔

علی اسلم نے کہا کہ اس طالبہ کی حاضری مکمل تھی اور اس کا سی جی پی اے 3.14 تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ طالبہ کا سلیبس مکمل نہ ہونے سے متعلق مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں، تاہم انکوائری مکمل ہونے سے قبل کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا، انکوائری مکمل ہونے پر اصل حقائق سامنے آئیں گے۔

رجسٹرار نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی میں طلبا کو داخلے کے وقت اسکالرشپ دی جاتی ہے، جبکہ بعد ازاں پہلے سمسٹر کے نتائج کی بنیاد پر اسکالرشپ کے تسلسل یا تبدیلی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسپتال پاکستان پنجاب خود کشی رجسٹرار لاہور نجی یونیورسٹی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپتال پاکستان لاہور نجی یونیورسٹی خودکشی کی کوشش یونیورسٹی میں کے مطابق طالبہ کی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟