لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش، کلاسز معطل
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہور میں واقع ایک نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے طلبا کی حفاظت اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تمام تدریسی سرگرمیاں معطل کر دیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کلاسز آن لائن منتقل کرنے اور یونیورسٹی بلڈنگز کو وقتی طور پر بند رکھنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق آئندہ ہدایات تک کسی بھی قسم کا تدریسی عمل نہیں ہوگا، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ طلبا کی ذہنی اور جسمانی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
اسپتال منتقلطالبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے بعد اسے لاہور جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ طبی ماہرین نے مختلف ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد ابتدائی طبی رپورٹ تیار کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبہ تاحال ہوش میں نہیں آ سکی اور اس کی حالت تشویشناک قرار دی گئی ہے۔ طبی معائنہ میں انکشاف ہوا ہے کہ مریضہ کے دماغ میں باریک رگوں سے خون رس رہا ہے جبکہ دماغ میں شدید سوجن بھی موجود ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مریضہ کا بائیں پھیپڑا بری طرح متاثر ہوا ہے۔
لاہور یونیورسٹی کی طالبہ فاطمہ نے یونیورسٹی میں تیسری منزل سے چھلانگ لگادی ۔ فاطمہ شدید زخمی ہو کر آئی سی یو میں ہے ۔ وجوہات نامعلوم ۔
اسی جامعہ میں چند دن پہلے اویس سلطان نے خودکشی کی تھی۔ pic.
— Tariq Mateen (@tariqmateen) January 5, 2026
طبی رپورٹ کے مطابق مریضہ کے دونوں پاؤں کی ایڑیوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں جبکہ ریڑھ کی ہڈی کے دوسرے اور تیسرے مہرے دب گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مریضہ کے بائیں گھٹنے کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریضہ کو آئی سی یو میں منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں ٹیوب کے ذریعے پھیپڑے کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انتظامیہ کے مطابق واقعے سے متعلق تمام طبی رپورٹس پولیس کو جمع کرا دی گئی ہیں۔
’طالبہ کی حالت خطرے سے باہر ہے‘یونیورسٹی کے رجسٹرار علی اسلم نے بتایا کہ صبح یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی تھی، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ طالبہ اب خطرے سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبہ نے ستمبر میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔
رجسٹرار کے مطابق ملک میں بڑی تعداد میں لوگ ذہنی دباؤ اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل اویس سلطان کے واقعے پر بننے والی انکوائری کمیٹی اپنی فائنڈنگز مکمل کر چکی ہے۔
علی اسلم نے کہا کہ اس طالبہ کی حاضری مکمل تھی اور اس کا سی جی پی اے 3.14 تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ طالبہ کا سلیبس مکمل نہ ہونے سے متعلق مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں، تاہم انکوائری مکمل ہونے سے قبل کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا، انکوائری مکمل ہونے پر اصل حقائق سامنے آئیں گے۔
رجسٹرار نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی میں طلبا کو داخلے کے وقت اسکالرشپ دی جاتی ہے، جبکہ بعد ازاں پہلے سمسٹر کے نتائج کی بنیاد پر اسکالرشپ کے تسلسل یا تبدیلی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسپتال پاکستان پنجاب خود کشی رجسٹرار لاہور نجی یونیورسٹی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپتال پاکستان لاہور نجی یونیورسٹی خودکشی کی کوشش یونیورسٹی میں کے مطابق طالبہ کی
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔