لاہور: خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ کی حالت تشویشناک
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہور میں رائیونڈ روڈ پر واقع نجی یونیورسٹی کی طالبہ نے چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی جسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالبہ کو دماغ پر چوٹ آئی ہے، وہ ہوش میں نہیں، طالبہ کی کمر کی کچھ ہڈیوں اور گھٹنے میں فریکچر ہے، اس کی حالت تشویشناک ہے، طالبہ کو جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
واقعہ اسی نجی یونیورسٹی میں پیش آیا جہاں کے ایک طالبعلم محمد اویس نے تقریباً دو ہفتے پہلے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔
لاہور: نجی یونیورسٹی طالبہ کی خودکشی کی کوشش، چھت سے کود گئیطالبہ کو تشویشناک حالت میں یونیورسٹی کے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں اسے طبی امداد دی جارہی ہے۔
پولیس کے مطابق 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے نجی یونیورسٹی کی دوسری منزل سے نیچے چھلانگ لگائی۔یونیورسٹی کے اندر سے موصول ہونے والے موبائل کلپس میں گارڈز کو زخمی لڑکی کو لے جاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
واقعہ کے بعد یونیورسٹی کو بند کر دیا گیا، طلبا یونیورسٹی کے باہر جمع ہوگئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور فارنزک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرنے شروع کیے۔ اس بارے میں متعدد طلبا نے بھی یونیورسٹی انتظامیہ کے بارے میں شکایات کیں۔
پولیس کے مطابق کلوز سرکٹ فوٹیج لے کر وقوعہ کی مکمل تفتیش کی جا رہی ہے۔
یونیورسٹی رجسٹرار علی اسلم کا کہنا ہے کہ طالبہ نے ستمبر میں داخلہ لیا تھا، طالبہ کا سلیبس مکمل نہیں تھا تاہم انکوائری مکمل ہونے سے پہلے کچھ بھی حتمی نہیں۔
فاطمہ ڈی فارم کی طالبہ اور نارنگ منڈی ضلع شیخوپورہ کی رہائشی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نجی یونیورسٹی خودکشی کی
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور