بھارتی وفد نے خالدہ ضیا کا جنازہ پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی تاکہ اس کو ایشو بنایا جاسکے، ایاز صادق کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وفد نے انہیں بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کا جنازہ پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی تاکہ اس کو ایشو بنایا جاسکے۔
نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور دورہ بنگلہ دیش اور بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات سے متعلق بریف کیا۔ وزیر اعظم سے ملاقات میں انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان، مالدیپ، نیپال اور بھوٹان کے وفود کو ایک بس میں جنازہ گاہ لایا گیا۔ بھارتی وزیر خارجہ اور ہائی کمشنر اگلی نشست پر پہلے ہی بیٹھے تھے۔بھارتی وفد نے بس کے شیشوں پر لگے پردے آگے کر رکھے تھے، تا کہ لوگوں سے بچ سکیں جب کہوہ پاکستانی ہائی کمشنر کے ساتھ پچھلی نشست پر بیٹھ گئے ااور پردے سائیڈ پر کر کے بنگلہ دیشی عوام کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیتے رہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا 9 سے 12 جنوری تک دورہ کراچی،شیڈول جاری کر دیاگیا
انہوں نے بتایا کہ بھارتی وفد پوری تیاری اور منصوبہ بندی کے تحت وہاں آیا تھا۔ جیسے ہی بس جنازہ گاہ پہنچی، تو بھارتی ہائی کمشنر بس کے دروازے پر کھڑے ہو گئے، اور جب میں نیچے اترنے لگا تو بولے کہ آپ مت جائیں نیچے رش ہے اور آپ کو خطرہ ہے۔ میں نے بھارتی ہائی کمشنر سے کہا کہ دروازہ کھولیں، میں تو آیا ہی جنازے میں شرکت کے لیے ہوں۔ جب انہوں نے دروازہ نہیں کھولا تو میں نے غصہ میں زور سے کہا کہ دروازہ کھولو اور دروازہ کھلنے کے بعد میں نیپال اور مالدیپ کے وفود کو ساتھ لے کر نیچے اترا۔
ایاز صادق نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ اور ہائی کمشنر بس میں ہی بیٹھے رہے، کیونکہ انہیں جنازہ پڑھنا نہیں تھا۔ ان کی پوری کوشش تھی کہ میں بھی جنازہ نہ پڑھ سکوں اور یہ ایشو بنا سکیں۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، وکلا اور اہل خانہ کے ناموں کی فہرست جیل حکام کو ارسال
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بھارتی وفد ہائی کمشنر ایاز صادق سے ملاقات
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔