پنجاب حکومت کا نفرت پھیلانے والوں کیلئے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پنجاب حکومت کا نفرت پھیلانے والوں کیلئے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 January, 2026 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )آمحکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ اعزازیہ صرف ذمہ دار اور قانون کے پابند علما کو دیا جائے گا، نفرت پھیلانے والوں کیلئے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے محکمہ داخلہ کی تجاویز پر پالیسی کی منظوری دیدی، جس کے مطابق ریاست مخالف بیانیہ اختیار کرنے والے افراد کے اعزازیے فوری بند اور سخت کارروائی ہو گی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ اعزازیہ اسکیم کا مقصد امن، ہم آہنگی اور قومی وحدت کا فروغ ہے، قانون کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی،
نفرت انگیز مواد یا تقاریر ثابت ہونے پر فہرست سے فوری اخراج ہوگا۔ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ابتدائی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی، صوبے کے 66 ہزار امام مسجد تمام قانونی تقاضے پورے کرنے پر کلیئر قرار دے دیے گئے، ان کے خلاف کوئی ریاست مخالف سرگرمی ثابت نہیں ہوسکی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ اعزازیہ فہرست کی باقاعدہ اسکریننگ اور مانیٹرنگ جاری رہے گی، مستقبل میں بھی اعزازیہ دینے سے پہلے سخت جانچ پڑتال ہوگی، امن عامہ متاثر کرنے والے عناصر کی سرکاری سرپرستی نہیں ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربدترین حالات: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ماسکو جانے کا پلان تیار کرلیا بدترین حالات: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ماسکو جانے کا پلان تیار کرلیا پی ٹی آئی ارکان کے اسپیکر سے رابطے کی خبروں میں صداقت نہیں، عامر ڈوگر بھارت کو ایک اور دھچکا، بنگلادیش نے آئی پی ایل کی ٹیلی کاسٹ پر پابندی لگا دی روسی تیل کی خریداری پر ٹرمپ کی بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی اچھی گورننس سے بڑھ کر کوئی سیاست نہیں، صوبوں میں تفریق نہیں کی: مریم نواز حکومت نے فوری طور پر احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کی، ایرانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔