بلوچستان، انتظامیہ افسران کو "جسٹس آف پیس" مقرر کرنیکا اعلامیہ معطل
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
ایک سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ کیجانب سے افسران کو "جسٹس آف پیس" مقرر کرنے کے اعلامیہ کو معطل کرتے ہوئے اگلی سماعت کیلئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے۔ اسلام ٹائمز۔ عدالت عالیہ بلوچستان نے محکمہ داخلہ کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کے افسران کو "فیس آف جسٹس" مقرر کرنے کے اعلامیہ کو معطل کر دیا۔ چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے یہ حکم آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے دوران جاری کیا۔ درخواستیں ایڈووکیٹس راحب خان بلیدی، افتخار احمد لانگو اور عبدالبصیر کاکر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے 30 دسمبر 2025 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے انتظامی افسران کو "جسٹس آف پیس" مقرر کیا، مگر اس فیصلے سے قبل صوبے کے چیف جسٹس سے مشاورت نہیں کی گئی، جو آئین کی دفعات 175(3)، 202 اور 203 کے خلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیشن ججز پہلے ہی بطور ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس خدمات انجام دے رہے ہیں، اور انتظامیہ کو عدالتی اختیارات دینا ایک متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کے مترادف ہے۔ عدالت نے درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے اور حکم دیا کہ اگلی سماعت تک نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل رہے۔ عدالت نے حکم نامے کی نقول ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر بھیجنے کی بھی ہدایت کی۔ واضح رہے کہ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں ضلعی انتظامیہ کے افسران کو "جسٹس آف پیس" مقرر کرتے ہوئے اختیارات دیئے گئے تھے، جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ حکومت کا ہے، جس پر عملدرآمد کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جسٹس آف پیس افسران کو
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔