وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا کشمیری عوام کے حق خود ارادیت پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا کشمیری عوام کے حق خود ارادیت پر پیغام 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کی قرارداد جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کی ضمانت دیتی ہے۔مریم نوازشریف 77 برس سے کشمیری حق خودارادیت کاوعدہ ایفا ہونے کے انتظار میں ہیں۔مریم نوازشریف حق خود ارادیت انسانی وقار کا ایک اہم جزو ہے۔ مریم نوازشریف حق خود ارادیت کی قرارداد سے انحراف انسانی آزادی، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے معاہدوں کی نفی ہے۔ مریم نوازشریف بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرکے کشمیریوں کے تشخص کو مجروح کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔مریم نوازشریف بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا ملٹری زون بنا دیا ہے ۔مریم نوازشریف بھارت کو جان لینا چاہیئے کہ کوئی بھی دیوار آزادی کی خواہش کو روک نہیں سکتی۔مریم نوازشریف آزادی کشمیریوں کا حق ہے، انشاء اللہ کشمیریوں کی جدوجہد رنگ لائے گی۔مریم نوازشریف
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :