قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان و جارح مزاج آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے بنگلادیش کے کرکٹ ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے کو درست قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بنگلادیش کرکٹ بورڈ کا اپنی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ بلکل درست ہے اور جواز رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی سی انڈین کرکٹ کونسل نہیں بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ہے۔ مطالبہ کیا کہ آئی سی سی بنگلادیش کے میچز کسی دوسرے مقام پر منتقل کرے۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ کرکٹ کے فروغ کے خواہاں ہیں، لیکن انہیں بھارت کی جانب سے مناسب حمایت نہ ملنے کے باعث صورتحال مشکل ہوگئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی کو اب اس معاملے پر واضح فیصلہ کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں

بھارت کھیلوں میں سیاست سے باز نہ آیا، بنگلادیشی کھلاڑی آئی پی ایل سے باہر

دو مزید آسٹریلوی کھلاڑیوں کا آئی پی ایل میں شرکت سے انکار

واضح رہے کہ بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کے مطالبے پر بنگلادیشی کھلاڑی کو آئی پی ایل سے نکالے جانے کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے بھارت نہیں بھیجے گا۔

بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی اپنے تمام میچز دوسرے مقام پر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم ابھی اس سے متعلق آئی سی سی کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان ٹیم بھی ورلڈکپ میں شرکت کے لیے بھارت نہیں جائے گی اور وہ اپنے تمام میچز شریک میزبان ملک سری لنکا میں کھیلے گی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارت نہ ٹیم کو

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے