عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کئے جانے پر اے پی سی آر کی سخت تنقید
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے یو اے پی اے کے تحت ضمانت کے سخت معیار کا اطلاق کرتے ہوئے ملزمان کے درمیان انتخابی تفریق کو جائز قرار دیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ ہر ملزم ایک ہی درجے پر نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) نے دہلی فسادات کے معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کئے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے اس کیس میں آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں تھیں، جبکہ دیگر ملزمان گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم، شفاء الرحمٰن اور شاداب احمد کو بارہ سخت شرائط کے ساتھ ضمانت دے دی گئی۔ اے پی سی آر نے گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم، شفاء الرحمٰن اور شاداب احمد کی ضمانت پر رہائی کا خیرمقدم کیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ میران حیدر، محمد سلیم اور شاداب احمد کے مقدمات میں اے پی سی آر نے بھرپور قانونی معاونت اور مسلسل پیروی انجام دی۔
برسوں تک بغیر مقدمہ چلے قید میں رہنے کے بعد ان کی رہائی ایک حد تک راحت کا باعث ہے، تاہم عمر خالد اور شرجیل امام کی مسلسل قید اس راحت کو متاثر کرتی ہے۔ اے پی سی آر کے مطابق عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کا انکار ناانصافی، غیر متناسب سلوک اور ٹھوس قانونی بنیادوں سے عاری ہے۔ سپریم کورٹ نے یو اے پی اے کے تحت ضمانت کے سخت معیار کا اطلاق کرتے ہوئے ملزمان کے درمیان انتخابی تفریق کو جائز قرار دیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ ہر ملزم ایک ہی درجے پر نہیں ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ مقدمے میں طویل تاخیر بذاتِ خود ضمانت کی بنیاد نہیں بن سکتی، چاہے برسوں میں ٹرائل میں کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہ ہوئی ہو۔
میڈیا کو جاری کئے گئے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اے پی سی آر کے نزدیک یہ طرز فکر قبل از سماعت قید کو غیر معینہ مدت تک معمول بنانے کے مترادف ہے، جو شخصی آزادی، بے گناہی کے اصول اور آئین ہند کے بنیادی حقوق کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ تنظیم اس امر پر زور دیتی ہے کہ ضمانت قاعدہ ہے اور قید استثنا مگر یو اے پی اے کے تحت اس اصول کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام چار سال سے زائد عرصہ بغیر کسی سزا کے جیل میں گزار چکے ہیں۔ بغیر مکمل ٹرائل کے ضمانت سے انکار دراصل جرم ثابت ہونے سے پہلے سزا دینے کے مترادف ہے اور اختلاف رائے کو جرم بنانے کی ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔ اس طویل قید پر حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
2 جنوری 2025ء کو امریکہ کے متعدد قانون سازوں نے بھارتی سفیر کو خط لکھ کر عمر خالد کی رہائی اور منصفانہ ٹرائل کا مطالبہ کیا، جبکہ 3 جنوری 2025ء کو نیویارک سٹی کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی نے عوامی طور پر عمر خالد سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ ردِعمل بھارت میں یو اے پی اے کے استعمال پر بڑھتی ہوئی عالمی نگرانی کی عکاسی کرتا ہے۔ اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ یو اے پی اے کے تحت طویل قید اب ایک احتیاطی اقدام نہیں بلکہ سزا کے متبادل کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے۔ اگرچہ تنظیم پانچ ملزمان کو دی گئی ضمانت کا خیر مقدم کرتی ہے، تاہم وہ اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ عائد کی گئی بارہ سخت شرائط نگرانی، ہراسانی یا آواز دبانے کاذریعہ نہ بنیں۔ مشروط آزادی ایسی نہیں ہونی چاہیئے جو عملی طور پر آزادی کی نفی بن جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت یو اے پی اے کے تحت اے پی سی آر کا اظہار
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔