پاکستانیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی، حقوق سے آگاہی ترجیح ہے: سید مصطفی ربانی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پاکستانیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی، حقوق سے آگاہی ترجیح ہے: سید مصطفی ربانی WhatsAppFacebookTwitter 0 5 January, 2026 سب نیوز
جدہ (خالد نواز چیمہ)پاکستان کے نئے قونصل جنرل سید مصطفی ربانی نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو معیاری قونصلی سہولیات کی فراہمی، سعودی قوانین اور اپنے حقوق سے مکمل آگاہی دینا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قونصلیٹ کو ایک شفاف، مثر اور عوام دوست ادارہ بنایا جائے گا، جس میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہ بات انہوں نے جدہ میں پاکستان جرنلسٹس فورم سے وابستہ صحافیوں سے تعارفی ملاقات کے دوران کہی۔ قونصل جنرل نے کہا کہ صحافی برادری کمیونٹی کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کی مشاورت سے کم وقت میں بہتر اور مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جدہ اور مغربی ریجن میں مقیم پاکستانیوں کو جلد ایک جدید، باوقار اور وسیع نئی قونصلیٹ عمارت فراہم کی جا رہی ہے، جس کی تکمیل سابقہ قونصل جنرل اور وزارتِ خارجہ و وزارتِ خزانہ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ نئی عمارت میں منتقلی کے باعث دو سرکاری تعطیلات سمیت مجموعی طور پر پانچ روز تک پاسپورٹ اور نادرا کی خدمات عارضی طور پر معطل رہیں گی،
تاہم ہنگامی سفری دستاویزات اور اموات کے سرٹیفکیٹس کی سہولت بدستور جاری رہے گی۔قونصل جنرل نے سعودی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات، خصوصا آم اور کینو کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آئندہ نمائشوں کا انعقاد فصلوں کے سیزن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں باہمی تعاون، رابطوں کے فروغ اور پاکستانی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب حکومت کا نفرت پھیلانے والوں کیلئے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ پنجاب حکومت کا نفرت پھیلانے والوں کیلئے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ بدترین حالات: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ماسکو جانے کا پلان تیار کرلیا پی ٹی آئی ارکان کے اسپیکر سے رابطے کی خبروں میں صداقت نہیں، عامر ڈوگر بھارت کو ایک اور دھچکا، بنگلادیش نے آئی پی ایل کی ٹیلی کاسٹ پر پابندی لگا دی روسی تیل کی خریداری پر ٹرمپ کی بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی اچھی گورننس سے بڑھ کر کوئی سیاست نہیں، صوبوں میں تفریق نہیں کی: مریم نوازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستانیوں کو
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔