مصطفی عامر قتل کیس: مرکزی ملزم ارمغان کو ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان عرف ارمی کو غیر قانونی کال سینٹر کیس میں ضمانت مل گئی۔
کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان عرف ارمی کو غیر قانونی کال سینٹر چلانے کے الزام میں پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں ضمانت منظور کر دی۔ عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کے شرط پر عارضی طور پر رہائی کی اجازت دی۔
عدالت میں وکیل صفائی خرم عباس اعوان نے موقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف آج تک کوئی چالان پیش نہیں کیا گیا، نہ تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوا اور نہ کوئی گواہ موجود تھا۔
وکیل خرم عباس اعوان نے کہا کہ ملزم کے خلاف کوئی تحریری شکایت بھی درج نہیں کی گئی، جس کی بنیاد پر عدالت نے ضمانت کی منظوری دی۔
سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت صرف موجودہ پیکا ایکٹ کے مقدمے تک محدود ہے اور دیگر مقدمات میں ملزم کی قانونی صورتحال برقرار رہے گی۔ کراچی کی عدالتی کارروائیاں شہریوں اور قانونی ماہرین کے لیے ایک بار پھر یہ یاد دہانی ہیں کہ ملک میں انسداد جرائم اور مالی بدعنوانی کے اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ قانونی عمل کا تسلسل برقرار رہ سکے۔
یاد رہے کہ ارمغان عرف ارمی کے خلاف این سی سی آئی میں بھی مقدمہ درج ہے اور وہ مصطفیٰ عامر قتل کیس، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور منی لانڈرنگ کے دیگر مقدمات میں بھی زیر سماعت ہے۔ عدالت کی یہ کارروائی ملزم کی قانونی پیچیدگیوں میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل عامر قتل کیس عدالت نے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔