شک کی بنیاد پرکسی کو بھی 10 دن تک قید رکھا جاسکتا ہے، افغان طالبان سربراہ کا نیا حکم
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
شک کی بنیاد پرکسی کو بھی 10 دن تک قید رکھا جاسکتا ہے، افغان طالبان سربراہ کا نیا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 5 January, 2026 سب نیوز
کابل(آئی پی ایس )افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ایک نیا فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت مشتبہ افراد کو حراست میں رکھنے کی مدت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔فرمان میں عدالتی حکم کے بغیر کسی بھی زیرِ حراست شخص کی رہائی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق نئے حکم نامے کے تحت کسی بھی مشتبہ شخص کو زیادہ سے زیادہ 10 دن تک حراست میں رکھا جا سکے گا جبکہ اس سے قبل یہ مدت 72 گھنٹے تھی۔افغان میڈیا نے بتایاکہ فرمان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم کے بغیر کسی زیرِ حراست شخص کو رہا نہیں کیا جاسکتا۔
اس سے قبل پولیس کے پاس یہ اختیار تھا کہ اگر کسی مقدمے میں استغاثہ کو بھیجنے کے لیے شواہد ناکافی ہوں تو مشتبہ فرد کو رہا کیا جاسکتا تھا، اسی طرح استغاثہ کو بھی 15 دن کے اندر زیرِ حراست افراد کو رہا کرنے کا اختیار حاصل تھا۔
افغان میڈیا کے مطابق یہ طریقہ کار سابق افغان حکومت کے پینل کوڈ کی شق 88 میں درج تھا جس کے مطابق اگر قانون کے تحت حراست ضروری نہ سمجھی جائے تو استغاثہ کو مشتبہ شخص کی فوری رہائی کا حکم دینا ہوتا تھا۔تاہم طالبان کے زیرِ انتظام وزارتِ انصاف کی ویب سائٹ پر شائع معلومات کے مطابق سابقہ پینل کوڈ کو اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشہباز شریف کا بنگلا دیش ہائی کمیشن کا دورہ، بیگم خالد ضیا کے انتقال پر اظہار تعزیت شہباز شریف کا بنگلا دیش ہائی کمیشن کا دورہ، بیگم خالد ضیا کے انتقال پر اظہار تعزیت پارلیمانی ڈپلومیسی:پاکستان کا اعلی سطح وفد امریکہ جائے گا،سیدال خان ناصر پاکستانیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی، حقوق سے آگاہی ترجیح ہے: سید مصطفی ربانی پنجاب حکومت کا نفرت پھیلانے والوں کیلئے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ بدترین حالات: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ماسکو جانے کا پلان تیار کرلیا پی ٹی آئی ارکان کے اسپیکر سے رابطے کی خبروں میں صداقت نہیں، عامر ڈوگرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کو بھی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔