وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا میں 3 جنوری کو ہونے والی فوجی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔ ان کے مطابق اس کارروائی کے دوران بین الاقوامی قانون کی پاسداری نہیں کی گئی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جو وینزویلا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، جس میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے پیدا ہونے والے خطرات پر غور کیا گیا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز، نیویارک کی عدالت میں پیش
اس اجلاس میں سیکریٹری جنرل گوتریس نے وینزویلا کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ امریکی فوجی کارروائی نے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے، اور اس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ امریکی تحویل میں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وینزویلا میں عدم استحکام کے بڑھنے اور خطے پر اثرات مرتب ہونے کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا۔
سیکریٹری جنرل نے کہاکہ تمام فریقوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے اور جامع و جمہوری مکالمہ شروع کرنا چاہیے تاکہ وینزویلا کے تمام طبقات اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔
انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور تمام متعلقہ قانونی فریم ورک کا احترام امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، اور ریاستوں کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے دھمکی یا طاقت کے استعمال پر پابندی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ قانون کی بالادستی کو ہر صورت میں یقینی بنانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہاکہ بین الاقوامی قانون میں منشیات کی غیرقانونی اسمگلنگ، وسائل کے تنازعات اور انسانی حقوق سے متعلق مسائل کے حل کے لیے مؤثر ذرائع موجود ہیں۔
انتونیو گوتریس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں کسی ریاست کی سالمیت یا آزادی کے خلاف طاقت یا دھمکی کا استعمال ممنوع ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی خواب پریشان: وینزویلا کے تیل ذخائر سے فوری فائدہ ممکن نہیں، ماہرین نے خبردار کردیا
انہوں نے وینزویلا کی حکومت کی درخواست پر مقرر کیے گئے انتخابی ماہرین کے پینل کا ذکر کیا جس نے وینزویلا کے انتخابی نظام سے متعلق سنگین مسائل کی نشاندہی کی ہے۔
سیکریٹری جنرل نے کہاکہ اقوام متحدہ نے انتخابات کے نتائج کی مکمل شفافیت اور ان کی مکمل اشاعت کے لیے مسلسل اپیل کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اقوام متحدہ امریکی فوج سیکریٹری جنرل وی نیوز وینزویلا کارروائی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکی فوج سیکریٹری جنرل وی نیوز وینزویلا کارروائی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین الاقوامی وینزویلا کے نے وینزویلا کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔