WE News:
2026-06-02@23:42:02 GMT

برطانیہ میں فلسطینی سفارتخانے کا باضابطہ افتتاح کردیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

برطانیہ میں فلسطینی سفارتخانے کا باضابطہ افتتاح کردیا گیا

برطانیہ میں فلسطینی سفارتخانے کا باضابطہ افتتاح کردیا گیا ہے۔

لندن میں فلسطین کے سفارتخانے کا باضابطہ افتتاح پیر کے روز ایک مختصر تقریب میں کیا گیا۔ فلسطینی سفیر حسام زملط نے اس موقع کو برطانوی فلسطینی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ خوشی بھی، تشویش بھی‘، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر عوامی ردعمل

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی سفیر نے کہا کہ آج ایک تاریخی لمحہ منایا جارہا ہے جب ریاست فلسطین کے سفارتخانے کو برطانیہ میں مکمل سفارتی حیثیت اور مراعات کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔ اس عمارت کو اس سے قبل فلسطینی مشن کے طور پر جانا جاتا تھا۔

فلسطینی مشن کو سفارتخانے کا درجہ اس وقت دیا گیا جب برطانیہ نے ستمبر 2025 میں آسٹریلیا، کینیڈا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ غزہ میں انسانی صورتحال پر عالمی تشویش کے تناظر میں سامنے آیا تھا۔

روایتی سیاہ و سفید فلسطینی اسکارف پہنے ہوئے فلسطینی سفیر حسام زملط نے کہا کہ یہ محض نام کی تبدیلی نہیں بلکہ فلسطینی ریاست کے قیام کی سمت ایک واضح پیشرفت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حامی امریکیوں میں اضافہ، تازہ ترین سروے

انہوں نے کہا کہ نئے سال کا آغاز اس تاریخی قدم کے ساتھ ہونا امید اور استقامت کی علامت ہے اور یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انصاف، وقار، برابری اور باہمی تسلیم کی بنیاد پر امن ناگزیر ہے۔

تقریب میں فلسطین اور برطانیہ کے قومی پرچم آویزاں تھے۔

 فلسطینی سفیر کے بعد خطاب کرتے ہوئے برطانوی سفارتی نمائندے الیسٹر ہیریسن نے اسے امید کا لمحہ قرار دیا اور کہا کہ یہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ انہوں نے فلسطینی سفیر اور ان کی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا لکسمبرگ کے ریاستِ فلسطین تسلیم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم

دوسری جانب برطانوی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اس سوال پر کوئی ردعمل نہیں دیا کہ آیا برطانیہ فلسطینی علاقوں میں اپنا سفارتخانہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news برطانیہ حسام زملط سفارتخانہ فلسطین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: برطانیہ سفارتخانہ فلسطین سفارتخانے کا فلسطینی سفیر میں فلسطین تسلیم کرنے کہا کہ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد