ملکی تاریخ کی سب سے بڑی انعامی رقم، اسکواش کا عالمی ایونٹ کراچی میں منگل سے ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی انعامی رقم کا کراچی اوپن انٹرنیشنل اسکواش ٹورنامنٹ2026 منگل سے شروع ڈی ایچ اے کریک کلب میں شروع ہورہاہے۔مجموعی طور پر2 لاکھ 42 ہزار ڈالرز کی انعامی رقم کا پی ایس اے کا گولڈ ایونٹ 11 جنوری تک کھیلا جائے گا۔
دنیا کے معروف کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والے چھ روزہ ٹورنامنٹ کے مینز اور ویمن ایونٹ کے لیے 1 لاکھ 20 ہزار 5سوڈالر کی مساوی رقم رکھی گئی ہے۔دونوں ایونٹس میں پہلے ٹاپ 8،8کھلاڑی براہ راست دوسرے راؤنڈ میں شرکت کریں گے۔پہلے روز ہر ایونٹ میں 8،8 میچز کھیلے جائیں گے۔
مینز ایونٹ میں عالمی نمبر4 مصر کے کریم جواد کو ٹاپ سیڈ اور ان کے ہم وطن عالمی نمبر 7 مروان الشورباگے سیڈ 2 کھلاڑی قرار پائے ہیں۔ عالمی 42 ہانگ کانگ کے ہنری لیونگ کی دستبرداری کے بعد پاکستانی نثراد امریکی کھلاڑی شاہ جہاں کو ایونٹ میں شامل کرلیا گیا۔
مینز ایونٹ میں شریک چار پاکستانی کھلاڑیوں میں عالمی انڈر23 چیمپئن و عالمی 38 نور زمان اورعالمی نمبر47 محمد اشعب عرفان براہ راست ایونٹ کا حصہ ہیں جبکہ سابق قومی چیمپئن ناصراقبال اور طیب اسلم کو وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی ہے۔
ویمن ایونٹ میں مصر کی عالمی نمبر 3 امینہ عرفی ٹاپ سیڈ اور ملائشیا کی سیواما سانگری سیڈ2ہیں۔2 پاکستانی کھلاڑیوں کو وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی ہے ان میں سماعت و قوت گوائی سے محروم ثنا بہادر اور مریم ملک شامل ہیں۔ پہلے راؤنڈ میں تمام پاکستانی کھلاڑی اپنی قسمت آزمائیں گے۔
نور زمان کا فرانس کے میلویل سیانی مانیکو،اشعب عرفان کا عالمی نمبر 56 جاپان کے آر ٹر ٹسوکی، طیب اسلم کا اسپین کے عالمی نمبر 34 ایکر پجاریز اور ناصر اقبال کا مصر کے مصطفی السرتے سے مقابلہ ہوگا۔
ثنا بہادر کا مصر کی عالمی نمبر 35 مریم اور مریم ملک کا ہانگ کانگ کی عالمی نمبر 34 سن یک چان سے ٹکراو طے ہے۔
عالمی رینکنگ کے حامل بھارت کے 4 مرد کھلاڑی ابھے سنگھ،ا میت ٹنڈن، وید چھوٹرانی اور ویلا وان سینتھی کمار اور خاتون کھلاڑی عالمی نمبر 28 انابت سنگھ ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر رہے۔
دریں اثنا سندھ اسکواش ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ڈی ایچ اے کریک کلب کے اسکواش کمپلیکس پر چیمپئن شپ کی افتتاحی تقریب ہوئی۔
ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے برگیڈیئر رائے عاصم مصطفی اور اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان نے کھلاڑیوں کو سونیئرز پیش کیے۔
غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان میں تاریخی انعامی رقم کے انٹرنیشنل اسکواش ایونٹ کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ ٹورنامنٹ میں دلچسپ اور سنسنی خیزمقابلے دیکھنے میں آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی نمبر ایونٹ میں
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔