پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پاک فوج اور ریاستی اداروں کیخلاف سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ایک منظم اور خطرناک مہم جاری ہے جس کے تانے بانے بیرونِ ملک بیٹھے مخصوص عناصر اور نام نہاد ڈیجیٹل واریرز سے جا ملتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پاک فوج اور ریاستی اداروں کیخلاف سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ایک منظم اور خطرناک مہم جاری ہے جس کے تانے بانے بیرونِ ملک بیٹھے مخصوص عناصر اور نام نہاد ڈیجیٹل واریرز سے جا ملتے ہیں۔ یہ عناصر جعلی خبروں، گمراہ کن بیانیے اور سوچے سمجھے پروپیگنڈے کے ذریعے قومی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں جو دراصل ریاست کی نظریاتی اور انتظامی بنیادوں پر حملہ ہے۔ایسی مہمات نہ صرف قومی یکجہتی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ عوامی شعور کو بھی مسخ کرنے کا باعث بنتی ہیں، قوم کو ہوشیار رہنے اور سچ اور جھوٹ میں فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اداروں کی مضبوطی ہی ریاست کی بقا کی ضمانت ہے۔ سوشل میدیا پر پوری مہم ہے، یہ پاکستان کے باہر سے ہو رہی ہے، وہاں سے آپ کے لبادے میں عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد انڈیا سے جنریٹ ہو رہا ہے، لوکل آئی ڈی کی شکل میں فرقہ وارانہ مواد انڈیا سے پھیلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح کشمیر کیلئے کچھ اور مواد انڈیا سے آتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مواد انڈیا سے گلگت بلتستان سوشل میڈیا اداروں کی رہا ہے

پڑھیں:

ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف

ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔

چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل