وفاقی دارالحکومت میں نیا بلدیاتی نظام؛ اسلام آباد میں 3 میئر اور 6 نائب میئر ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اسلام آباد کو 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، نئے بلدیاتی نظام کے تحت اسلام آباد میں 3 میئر اور 6 نائب میئر ہوں گے۔
وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کو 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے، جس کے تحت ہر ٹاؤن میں الگ میئر اور نائب میئرز تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق نئے بلدیاتی نظام کے تحت اسلام آباد میں 3 میئر اور 6 نائب میئر ہوں گے جب کہ اسلام آباد میں بلدیاتی نظام پنجاب ماڈل پر تشکیل دینے کی منظوری دے دی گئی جب کہ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور 2 نائب میئر تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میئر اور نائب میئرز کا انتخاب براہِ راست عوام نہیں کریں گے بلکہ یونین کونسل کے چیئرمین بالواسطہ طور پر میئر اور نائب میئرز کا انتخاب کریں گے۔ اس فیصلے کے تحت اسلام آباد میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نظام کو ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد میں بلدیاتی نظام میئر اور کے تحت
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔