Jasarat News:
2026-06-03@01:12:54 GMT

امریکا کی لاٹھی امریکا کی بھینس

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

شور برپا ہے امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کرلیا۔ صدر ٹرمپ کو امریکا کے لیے تیل چا ہیے۔ انہوں نے برازیل کے صدر کو بھی تیل سمیت محفوظ کردیا۔ اس میں کیا برائی ہے؟؟ طاقتور کمزور سے بد معاشی نہیں کرے گا تو کس سے کرے گا؟ حالانکہ یہ بد معاشی نہیں۔ امریکا کی عالمی ذمے داری اور قانون کو بالادست رکھنے کے تقاضے ہیں۔ اگر ٹرمپ ایسا نہ کرتے تو کیسے ثابت ہوتا کہ ہم نے انہیں ’’جائز طور پر‘‘ نوبل پرائز کے لیے منتخب کیا ہے۔

اب صدر مادورو اپنے ملک سے زیادہ محفوظ رہیں گے۔ انہیں اغوا کرکے امریکا لے جانے میں ایک بڑی مصلحت یہ ہے کہ 2002 میں امریکا نے صدر ہیوگو شاویز کو فوج کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا تھا لیکن عوام 48 گھنٹوں میں انہیں دوبارہ اقتدار میں لے آئے تھے۔ اب صدر مادورو کے باب میں وینزویلا کے عوام سے پھر ایسی غلطی کا صدور ممکن نہیں۔ اب عوام ان کے خلاف مظاہرے کرسکیں گے اور نہ ہی انقلاب بپا کرسکیں گے جیسا کہ آج کل ایران کے عوام کرنا چاہ رہے ہیں۔ امریکا بصد اشتیاق ایران کے عوام کی خدمت بجا لانے کا بھی متمنی ہے لیکن یہ کافر ملّا؟ کب کسی کے قابو میں آتے ہیں؟

میں جانتا ہوں انجام اس کا

جس معرکے میں ملّا ہو غازی

وینزویلا کے صدر کا اغوا! اغوا نہیں دوستانہ میزبانی ہے۔ اغواکار جہاز میں بزنس کلاس نہیں دیتے، کیمرے سامنے رکھ کر آپریشن نہیں کرتے، ان کے ساتھ قانون سفر نہیں کرتا، وہ اغوا کنندگان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کرتے۔ امریکا صرف دو طرح کے لوگوں کو اغوا کرتا ہے: دہشت گردوں کو، دشمنوں کو اور تیسرے ان لوگوں کو جو غلط ملک کے غلط وقت پر صدر بن جاتے ہیں۔ اب وینزویلا کو ’’ملکی خود مختاری‘‘ اور دفاع کی فکر نہیں رہے گی۔ امریکا کی سربراہی میں اسے زیادہ سے زیادہ جمہوری بنایا جائے گا جیسا کہ امریکا کی سربراہی میں افغانستان اور عراق میں جمہوریت بالادست رہی ہے۔ ’’ہمارا ساتھ دو یا پھر کھنڈر بننے کے لیے تیار رہو‘‘ ایسے تذبذب میں ڈالنے کے بجائے امریکا نے شرافت سے صدر مادورو کو پار کرلیا۔ یہ نیکی ہے یا بدی؟

وینزویلا میں دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر ہیں: 300 ارب بیرل سے زیادہ۔ سونے کے ذخائر لاطینی امریکا میں سب سے زیادہ وینزویلا میں ہیں۔ نایاب معدنی عناصر Rare Earth Elements کے ذخائر اس کے علاوہ ہیں جو جدید ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ کولٹن جسے ’’بلیو گولڈ‘‘ کہا جاتا ہے جو اسمارٹ فونز، بیٹریوں اور ہائی ٹیک آلات کے لیے لازمی ہے، وینزویلا میں ان کی مالیت 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ لوہے کی قابل حصول مقدار کا اندازہ ساڑھے چار سے پانچ ارب میٹرک ٹن ہے۔ قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر تقریباً 5.

5 ٹریلین مکعب میٹر ہیں جو عالمی سطح پر آٹھویں سے دسویں نمبر پر ہیں۔ صنعتی معیار کے ہیروں کے ذخائر اندازاً ایک سے دو ملین کیرٹ ہیں۔ باکسائیٹ اندازاً 100 ملین ٹن، نکل 1 ملین ٹن سے زیادہ، کوئلے کے ذخائر تقریباً 1.4 ارب ٹن سے زیادہ ہیں۔۔۔ لیکن ایک مسئلہ ہے۔ قدرت سے بڑی بھاری غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ یہ عظیم ذخائر غلط ملک میں پائے جاتے ہیں۔ ان کا اصل اور صحیح ٹھکانہ ریاست ہائے متحدہ امریکا ہے۔ وینزویلا کے صدر کے اغوا سے اس غلطی کی اصلاح ممکن ہوجائے گی۔ زمین اہل وینزویلا کی ہوگی لیکن حکومت امریکا کی ہوگی۔ وینزویلا کے عوام تو بس مزے سے تماشا دیکھیں۔ کس خوبی سے امریکا اس بوجھ سے ان کی جان چھڑاتا اور ان کی کمر سیدھی کرتا ہے۔ اب وینزویلا کے صدر اور وہاں کے عوام اپنا ملک چلانے کی ذمے داری سے آزاد ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے دوران اغوا وینزویلا کے صدر کے نام ایک پیغام بھی بھیجا تھا ’’اس تکلیف کے لیے معذرت لیکن اب آپ کے ذخائر ہمارے ہیں۔ ہم انہیں مینج کریں گے۔ ہم طے کریں گے یہ ذخائر امریکا میں کہاں کہاں اور کب کب استعمال ہوں گے‘‘۔

وینزویلا کے صدر کے اغوا میں امریکا کی نگہ انتخاب کی داد دینی پڑتی ہے۔ کس خوبی سے اس نے وینزویلا کے میر جعفروں اور میر صادقوں کو تلاش کرکے ان کی خاموشی کی قیمت ادا کی ہے۔ وینزویلا کی فوج کی کل تخمینی تعداد 3 لاکھ 37 ہزار ہے۔ مرکزی انٹیلی جنس سروس SEBIN نے روسی اور اطالوی ٹیکنالوجی سے نگرانی کا وسیع نظام قائم کیا ہے۔ فوجی انٹیلی جنس DGCIM بھی فعال ہے جو فوج کے اندر نگرانی کرتی ہے۔ صدر کی حفاظت کے لیے کئی جہتوں پر مبنی سیکورٹی سسٹم ہے جس کی ذمے داری پریذیڈنشیل آنر گارڈ پر ہے۔ یہ ایک ایلیٹ فورس ہے جو میرافلورس پیلس، سرکاری رہا ئش گاہوں اور عوامی تقریبات میں صدر کی قریبی حفاظت کرتی ہے۔ SEBIN کائونٹر انٹیلی جنس اور نگرانی فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرونک کائونٹر ڈرون سسٹم، فضائی پابندیاں اور صدر کے باڈی گارڈز کی کثیر تعداد موجود ہے۔ تاہم جب غداروں نے اپنے صدر کو امریکا کے ہاتھوں بیچ دیا، فوج اور جنرل وفادار نہ رہے تو ریاست اور اس کے ادارے ایک خول کے سوا کچھ نہیں رہے۔ کسی ریڈار کی ایک ہلکی سی بیپ سنائی دی اور نہ گولی کی آواز۔ صدر کی حفاظت پر مامور اہلکار دن میں حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتے رہے اور رات کو امریکی سفارتخانے کی فون کال کا انتظار۔ جب ڈالروں سے جیبیں بھری ہوں اور بیوی بچے امریکا منتقل ہوں تو وفاداری بوجھ بن جاتی ہے

اور امریکی ڈیلٹافورس سے تعاون ایک مقدس فرض۔ ایسے مقدس کاموں میں امریکا کا ساتھ دینے میں ہم بھی کم نہیں۔ اسامہ بن لادن کی روح آج بھی اس کا اعتراف کرتی ہے۔

اب آئیے اصل بات پر۔۔ وینزویلا پر امریکی حملہ نہ منشیات کے خلاف ہے، نہ دہشت گردی کے خلاف اور نہ جمہوریت کی بقا کے لیے۔ یہ اصل میں امریکی ڈالر کی بقا کے لیے ہے۔ کہانی 1974 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدے سے شروع ہوئی جب یہ طے ہوا کہ دنیا میں فروخت ہونے والا ہر بیرل تیل صرف امریکی ڈالر میں فروخت ہوگا اور بدلے میں امریکا عسکری تحفظ فراہم کرے گا۔ اس ایک معاہدے نے ڈالر کو عالمی معیشت کا محور بنا دیا۔ تیل کی خرید کے لیے ہر ملک کے لیے ڈالر کی ضرورت ناگزیر ہوگئی۔ امریکا ڈالر چھاپتا رہا اور دنیا اور امریکا کا کام چلتا رہا۔ نہ طیارہ بردار جہاز، نہ فوجی اڈے بلکہ یہ نظام یہ ’’پٹرو ڈالر سسٹم‘‘ امریکی طاقت کی اصل بنیاد ہے۔ وینزویلا کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس تیل کا سعودی عرب سے بھی بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ دنیا کے کل تیل کا 20 فی صد۔ وینزویلا نے جرم یہ کیا کہ اس نے ڈالروں میں تیل کی فروخت بند کردی اور یوآن، یورو اور روبل میں تیل فروخت کرنا شروع کردیا۔ SWIFT کو نظر انداز کردیا۔ BRICS میں شمولیت کی کوشش کی۔ چین کے ساتھ براہ راست ادائیگی کے نظام بنائے۔ یہ ڈالر کو چیلنج کرنے والی بات تھی جو امریکا کے لیے ناقابل قبول تھی، ناقابل قبول ہے۔ اس سے پہلے صدام حسین نے تیل یورو میں بیچنے کا اعلان کیا، لیبیا کے کرنل قذافی نے گولڈ دینار کی حرکت کی تھی، امریکا نے رجیم چینج کرکے انہیں نشان عبرت بنادیا۔ امریکا کا پیغام واضح ہے ’’اگر ڈالر کو چیلنج کروگے ہم تمہیں برباد کردیں گے۔ تمہارا تیل تمہارا نہیں امریکا کا ہے‘‘۔ اب ڈالر کی اجارہ داری معاشی برتری سے نہیں تشدد اور بدمعاشی سے قائم ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس نہیں۔۔۔ امریکا کی لاٹھی امریکا کی بھینس۔

 

بابا الف

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر میں امریکا امریکا کی امریکا نے امریکا کا سے زیادہ کے ذخائر کرتی ہے کے عوام کے لیے صدر کے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان