امریکی عدالت میں وینزویلاکے صدرپر فرد جرم عائد،نکولس مادوروکا صحت جرم سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی وفاقی عدالت میں پیشی کے دوران اپنے خلاف عائد تمام الزامات پر صحتِ جرم سے انکار کر دیا۔
نیویارک میں وفاقی عدالت نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر فرد جرم عائد کردی۔ 63 سالہ مادورو نے امریکی وفاقی عدالت میں چار فوجداری الزامات پر خود کو بے قصور قرار دیا، جن میں نارکو ٹیررازم، کوکین درآمد کرنے کی سازش اور مشین گنز و تباہ کن ہتھیار رکھنے کے الزامات شامل ہیں۔
استغاثہ کے مطابق مادورو ایک ایسے کوکین اسمگلنگ نیٹ ورک کی نگرانی کرتے رہے جو میکسیکو کے سینالوا اور زیٹاز کارٹلز، کولمبیا کی فارک باغی تنظیم اور وینزویلا کے ٹرین دے اراگوا گینگ کے ساتھ مل کر کام کرتا تھا۔
مادورو ان الزامات کی طویل عرصے سے تردید کرتے آئے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ الزامات وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر پر سامراجی قبضے کا بہانہ ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت میں بیان دیتے ہوئے نکولس مادورو نے کہا کہ میں بالکل بے قصور ہوں، میرے خلاف لگائے گئے الزامات کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ سماعت کے دوران مادورو کی اہلیہ سیلیا فلورس بھی عدالت میں موجود تھیں، جنہوں نے خود کو وینزویلا کی خاتونِ اول قرار دیا۔
عدالت نے دونوں فریقین کے مؤقف سننے کے بعد آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے کارروائی آگے بڑھا دی۔
پیر کی صبح مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو بروکلین کے حراستی مرکز سے سخت سیکیورٹی میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت لایا گیا۔ عدالت میں جج نے فردِ جرم پڑھ کر سنائی جبکہ مادورو جیل کا لباس پہنے ہوئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نکولس مادورو وینزویلا کے وفاقی عدالت عدالت میں
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔