ملاوٹ کے خلاف پنجاب فوڈاتھارٹی کی کارروائیاں اورپروگرام ’’بنام سرکار‘‘
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سٹی42:پروگرام ’’بنام سرکار‘‘میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عاصم جاوید نے ملاوٹ کے خلاف کارروائیوں اور درپیش قانونی مشکلات پر کھل کر گفتگو کی۔
پروگرام کے اینکر پرسن زوہیب سلیم بٹ نےڈی جی فوڈ اتھارٹی کے سامنے مختلف عوامی نوعیت کے سوالات رکھے،پروگرام کے دوران ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ فوڈ اتھارٹی ملاوٹ کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے اور متعدد مقدمات بھی درج کروائے جاتے ہیں، تاہم عدالتوں کا رویہ انتہائی نرم ہے، ملاوٹ میں ملوث افراد ایف آئی آر کے بعد عدالتوں سے آسانی سے ضمانت حاصل کر لیتے ہیں اور پھر کسی دوسری جگہ جا کر دوبارہ وہی غیر قانونی کام شروع کر دیتے ہیں۔
کراچی میں ایک اور ناخوشگوار واقعہ، 3 افراد کنوئیں میں گر گئے
ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق ملاوٹ انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس کے سدباب کے لیے سخت قوانین اور مؤثر عدالتی کارروائی ناگزیر ہے، جب تک ملاوٹ کرنے والوں کو سخت سزائیں نہیں ملتیں اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے پینے کے پانی کے فلٹر پلانٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ متعدد فلٹر پلانٹس مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے اور عوام کو غیر محفوظ پانی فراہم کر رہے ہیں، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ناقص اور غیر معیاری فلٹر پلانٹس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں، لیکن بعض مالکان معمولی جرمانے یا قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ کام شروع کر دیتے ہیں۔
پنجاب حکومت کا اس سال سیلابی خطرات سے بچاؤ کیلئے اہم فیصلہ
پروگرام میں اینکر زوہیب سلیم بٹ نے عوامی شکایات اور فوڈ سیفٹی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے، جن پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے ادارے کی کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی سے آگاہ کیا اوربتایاکہ ادارہ ملاوٹ کے خاتمے اور عوام کو محفوظ خوراک و صاف پانی کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ اور عوام کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
پروگرام کے میزبان زوہیب سلیم بٹ نے گفتگوختم کرتے ہوئےکہا کہ عوامی صحت جیسے اہم مسئلے پر مؤثر قانون سازی اور سخت عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے بغیر ملاوٹ جیسے جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔
لاہور کا موسم سرد ہوتے ہی مچھلی کی قیمتیں دگنی ہوگئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈی جی فوڈ اتھارٹی پنجاب فوڈ ملاوٹ کے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔