data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)غیر قانونی سگریٹ بنانے والے، کارروائیوں سے بچنے کیلئے برق رفتاری سے نئے طریقے ایجاد کر رہے ہیںحکومت سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے تاہم اس مقصد کو نت نئے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ غیر قانونی سگریٹ بنانے والے اور ان کے تقسیم کنندگان روک تھام کے قانونی اقدامات کے مطابق اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں۔غیر قانونی سگریٹ کی تجارت سے وابستہ عناصر کے ان حربوں کی وجہ سے حکام کے لیے یہ ایک “متحرک ہدف” بن گیا ہے۔ غیر قانونی تجارت کی روک تھام کی پالیسی میں حالیہ بہتری اور ڈیجیٹل اصلاحات کے باوجود، بلیک مارکیٹ مضبوط ہے اور ٹیکس اور نگرانی کے نظام کو چکمہ دینے کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہے۔ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ جب حکام لائسنس یافتہ فیکٹریوں کی جانچ پڑتال سخت کرتے ہیں اور ٹیکس مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر بناتے ہیں، تو غیر قانونی آپریٹر اکثر پیداوار کے مقامات تبدیل کرلیتے ہیں، سپلائی کے راستوں میں تبدیلی لاتے ہیں، اور بازاروں میں سستے غیر ٹیکس شدہ مصنوعات کی رسد بڑھا دیتے ہیں۔ یہ بدلتا ہوا منظرنامہ سالانہ تقریباً 415 ارب روپے کے ریونیو کے نقصان کا سبب بن کر ملک کی مالیاتی استحکام کو کمزور کر رہا ہے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی