حکومت سگریٹ کی غیر قانونی تجارت روکنے کیلیے کوشاں ہے‘ماہرین اقتصادیات
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-02-3
کراچی (اسٹاف رپورٹر)غیر قانونی سگریٹ بنانے والے، کارروائیوں سے بچنے کیلئے برق رفتاری سے نئے طریقے ایجاد کر رہے ہیںحکومت سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے تاہم اس مقصد کو نت نئے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ غیر قانونی سگریٹ بنانے والے اور ان کے تقسیم کنندگان روک تھام کے قانونی اقدامات کے مطابق اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں۔غیر قانونی سگریٹ کی تجارت سے وابستہ عناصر کے ان حربوں کی وجہ سے حکام کے لیے یہ ایک “متحرک ہدف” بن گیا ہے۔ غیر قانونی تجارت کی روک تھام کی پالیسی میں حالیہ بہتری اور ڈیجیٹل اصلاحات کے باوجود، بلیک مارکیٹ مضبوط ہے اور ٹیکس اور نگرانی کے نظام کو چکمہ دینے کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہے۔ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ جب حکام لائسنس یافتہ فیکٹریوں کی جانچ پڑتال سخت کرتے ہیں اور ٹیکس مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر بناتے ہیں، تو غیر قانونی آپریٹر اکثر پیداوار کے مقامات تبدیل کرلیتے ہیں، سپلائی کے راستوں میں تبدیلی لاتے ہیں، اور بازاروں میں سستے غیر ٹیکس شدہ مصنوعات کی رسد بڑھا دیتے ہیں۔ یہ بدلتا ہوا منظرنامہ سالانہ تقریباً 415 ارب روپے کے ریونیو کے نقصان کا سبب بن کر ملک کی مالیاتی استحکام کو کمزور کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932