سرجانی میں انتظامیہ کی ملی بھگت سے قبضہ مافیا سرگرم ہے‘جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر)سرجانی ٹاؤن اور اس کے اطراف میں زمینوں، گھروں، فلیٹوں، دکانوں اور حتیٰ کہ سڑکوں پر قبضوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ علاقے کے مکینوں کے مطابق قبضہ مافیا کھلے عام سرگرم ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ قبضہ مافیا کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شہری اپنے گھر کے باہر گدھا گاڑی سے بجری یا چند بلاک اتار لے تو پولیس فوراً متعدد موٹر سائیکلوں اور موبائل وین کے ساتھ موقع پر پہنچ جاتی ہے، تاہم جب بات گھروں اور پلاٹوں پر منظم قبضوں کی ہو تو متعلقہ تھانے خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قبضہ مافیا تھانوں کو مبینہ طور پر خرید کر قانونی کارروائی رکوا لیتی ہے۔عباسی گوٹھ، متصل خدا کی بستی سرجانی میں قبضہ مافیا کی سرگرمیاں عروج پر ہیں، جہاں پلاٹوں اور مکانوں پر زبردستی قبضے کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایف آئی آرز بھی درج کی جا چکی ہیں اور پولیس نے بعض گرفتاریاں بھی کیں، تاہم مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ مافیا کے معمولی دباؤ پر، ثبوت موجود ہونے کے باوجود ملزمان کو رہا کر دیا جاتا ہے۔جماعتِ اسلامی مسلسل قبضہ مافیا کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔ امیر جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر کی ہدایت پر جماعتِ اسلامی نے عباسی گوٹھ اور گردونواح میں قبضوں کے خلاف عملی مزاحمت شروع کر دی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے مقامی ذمہ داران نے واضح کیا ہے کہ اگر تھانہ سرجانی کی جانب سے فوری اور نتیجہ خیز کارروائی نہ کی گئی تو خدا کی بستی، تیسر ٹاؤن اور سرجانی کے عوام متحد ہو کر تھانہ سرجانی کا گھیراؤ کریں گے، مجرموں کی گرفتاری اور قبضہ شدہ املاک کی واگزاری یقینی بنائی جائے گی۔علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قبضہ مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور شہریوں کو ان کی قانونی املاک کا تحفظ فراہم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قبضہ مافیا
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا کل مینار پاکستان جلسہ لٹک گیا، انتظامیہ نے اجازت نہیں دی
لاہور:پیپلز پارٹی لاہور کا 25 جولائی کو مینار پاکستان پر گرینڈ جلسے کا انعقاد کھٹائی میں پڑگیا، پولیس اور پی ایچ اے نے ضلع انتظامیہ کو منفی رپورٹ جمع کرادی، پولیس نے جلسے کے لیے پہنچی کرسیاں، جنریٹر اور ڈیکوریشن سے لدے ٹرک گیٹ پر روک دیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی نے کل 25 جولائی کو مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان کررکھا ہے جس میں صدر زرداری، بلاول اور آصفہ بھٹو کو شرکت کرنی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ آج پولیس نے جلسہ گاہ آئے سامان سے لدے ٹرک باہر ہی روک دیے، پولیس اور پی ایچ اے نے ضلعی انتظامیہ کو منفی رپورٹ جمع کرادی جس میں جلسے کی اجازت نہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مینار پاکستان فیملیز کا تفریحی مقام ہے یہاں مناسب نہیں، جلسے سیکیورٹی خدشات ہیں۔ اسی طرح پی ایچ اے نے جلسے کے لیے زر ضمانت کے طور پر 60 لاکھ روپے مانگ لیے، جلسے کی اجازت کے لیے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس تک نہیں بلایا، جلسے کی اجازت ڈی سی لاہور سے مشروط ہے۔ پی ایچ اے نے مینار پاکستان پارک متاثر ہونے کے پیش نظر جلسے کی اجازت نہ دینے کی تجویز دی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما درخواست گزار فیصل میر نے کہا تھا کہ جلسے میں صدر زرداری، بلاول اور آصفہ بھٹو شرکت کریں گے، 25جولائی کو رات 8 سے صبح 4 بجے تک جلسے کی اجازت دی جائے، جلسے میں پی پی کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
دوسری جانب سامان روکے جانے پر مینار پاکستان کے باہر میڈیا سے بات چیت میں فیصل میر نے کہا کہ لاہور کی انتظامیہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی طرف سے اجازت کے باوجود پیپلز پارٹی کے جلسے کو روکنے کا کوشش کر رہی ہے، اس وقت جلسے میں لے جانے والی کر سیوں، لائٹس، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر سامان کو مینار پاکستان کے گیٹ پر روک لیا گیا ہے، پیپلز پارٹی تمام رکاوٹوں کے باوجود مینار پاکستان پر ہی کنوینشن منعقد کرے گی۔
فیصل میر نے کہا کہ اس وقت پولیس جلسہ گاہ میں کام کرنے والے ورکرز کے شناختی کارڈ اور فون نمبرز لے کر انہیں کام کرنے سے روک رہی ہے، لاہور کی انتظامیہ اپنے آپ وزیراعلی مریم نواز سے سے طاقتور ہونے کا تاثر دے رہی ہے، کل مجھے وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری صاحب نے خود کہا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی طرف سے آپ کو جلسے کی اجازت ہے، وزیراعلی پنجاب سے گزارش ہے کہ اپنے اختیارات استعمال کریں، وزیراعلی پنجاب فورا انتظامیہ کو ہدایت جاری کریں کہ پیپلز پارٹی کے کنوینشن میں رکاوٹیں کھڑی نہ کریں، پیپلز پارٹی کنونشن کرنے کے جمہوری حق سے کسی صورت میں دست بردار نہیں ہوگی۔