یوم حق خودارادیت کے موقع پر حریت کانفرنس کے زیراہتمام عظیم الشان ریلیاں نکالی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ریلی کی قیادت کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے کی۔ریلی میں آزاد کشمیر کی سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں، تاجران، سول سوسائٹی، طلبہ، مہاجرین و انصار اور عوام الناس نے بھرپور شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر کے زیر اہتمام 5جنوری یومِ حق خودارادیت کے موقع پر ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔ ذرائع کے مطابق ریلی کا آغاز حیدری چوک سے ہوا جو پریس کلب باغ پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کی قیادت کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے کی۔ریلی میں آزاد کشمیر کی سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں، تاجران، سول سوسائٹی، طلبہ، مہاجرین و انصار اور عوام الناس نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم، اقوامِ متحدہ سے استصوابِ رائے کے مطالبات پر مبنی بینرز اور بھارتی مظالم کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ فضا مسلسل ہم کیا چاہتے ہیں؟ آزادی اور رائے شماری ہمارا حق ہے جیسے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہی۔باغ آزاد کشمیر کی فضا حقِ خودارادیت اور آزادی کے گونجتے نعروں سے معمور ہو گئی۔ اس موقع پر ریلی پریس کلب باغ کے قریب پہنچ کر ایک پرجوش عوامی جلسے میں تبدیل ہو گئی جہاں مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کے جذبات، احساسات اور جدوجہدِ آزادی کی بھرپور ترجمانی کی۔
غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ باغ کی سیاسی، سماجی اور مذہبی قیادت، تاجران، سول سوسائٹی اور باشعور عوام نے یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر جس وحدت، نظم و ضبط اور شعور کا مظاہرہ کیا ہے وہ اقوامِ عالم اور بالخصوص اقوامِ متحدہ کیلئے واضح اور ناقابل تردید پیغام ہے کہ جموں کشمیر کے عوام اپنے حق خودارادیت سے کسی صورت دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے آزادی کے اس مقدس سفر میں لاکھوں قربانیاں دے کر تحریک آزادی کو اپنے لہو سے سینچا ہے۔ غلام محمد صفی نے واضح کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نام نہاد ترقیاتی منصوبے، کشمیریوں کی پشتنی زمینوں پر قبضے، ریلوے لائنوں کی تعمیر اور جعلی انتخابات، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں درج حق رائے شماری کا ہرگز متبادل نہیں ہو سکتے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکریٹری جنرل ایڈوکیٹ پرویز احمد شاہ نے کہا کہ 5جنوری 1949ء کی اقوامِ متحدہ کی قرارداد مسئلہ کشمیر کی مضبوط قانونی اور اخلاقی بنیاد ہے مگر بدقسمتی سے کشمیری عوام مسلسل اپنے حق خودارادیت سے محروم ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک اس دیرینہ تنازعے کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا جنوبی ایشیا میں عدم استحکام اور ایٹمی تصادم کا خطرہ بدستور منڈلاتا رہے گا۔ سابق کنوینئر محمود احمد ساغر نے کہا کہ حق خودارادیت جموں و کشمیر کی تمام اکائیوں مسلمان، ہندو، سکھ اور دیگر کمیونٹیز کو مساوی طور پر یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ آر پار کشمیریوں کا اتحاد ہی عالمی برادری کو کشمیری عوام کے موقف کی اخلاقی اور سیاسی تائید پر مجبور کر سکتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے رہنما سردار میر اکبر، خواجہ شبیر شمیم، پی پی پی کے رہنما اعجاز بیگ، مولانا عتیق احمد نقشبندی، ڈپٹی کمشنر راجہ صداقت، سردار طاہر اکبر، قاضی ساجد چغتائی، سردار آصف، مسعود بیگ، ملک آفتاب اور دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں کشمیری نظربندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کشمیریوں کو ان کی لازوال جدوجہد پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں اور مظالم کا فوری نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دلانے میں اپنا موثر کردار ادا کرے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما شیخ محمد یعقوب، راجہ خادم حسین شاہین، شیخ عبدالماجد، زاہد اشرف، محمد اشرف ڈار، زاہد صفی اور عبدالمجید میر نے ریلی اور جلسے کے انتظامات انجام دیے۔
ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں کشمیر شاخ کے زیراہتمام میرپور آزاد کشمیر میں حق خودارادیت ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت حریت رہنما سید یوسف نسیم، قاضی عمران، ایڈووکیٹ محمود اختر قریشی، چوہدری شاہین اقبال، عبدالرشید بٹ، چوہدری گل بہار اور دیگر نے کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ 5 جنوری 1949ء کا دن ریاست جموں کشمیر کا تاریخی دن ہے۔ اس دن بھارت نے اقوام متحدہ میں ریاست جموں کشمیر کے عوام کو ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا، تاہم سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی کشمیری عوام اپنے ناقابل تنسیخ حق سے مسلسل محروم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے حق خودارادیت کشمیری عوام انہوں نے متحدہ کی کشمیر کی کشمیر کے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں 13 جون کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ ترجمان کے مطابق ملک بھر سے معروف نوحہ خواں حضرات کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی گئی ہے جبکہ ماتمی سنگتیں بھی دُختر رسولؑ کو پرسہ دیں گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو نوحہ خواں حضرات اور ماتمی انجمنوں کے سالاروں سے رابطے کر رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ماتمی سنگتوں کے سالاروں اور نوحہ خواں حضرات نے اظہار تشکر کیا ہے کہ انہیں بھی اس عظیم اجتماع میں شرکت کا موقع دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں نوحہ خواں حضرات نوحہ خوانی کیساتھ شہیدِ امت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو بھی اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کریں گے۔