گھر میں توڑ پھوڑ کے واقعے پر افسوس کرنے والوں کا شکر گزار ہوں، امریکی نائب صدر
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ وہ ان لوگوں کی نیک خواہشات پر شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا، ساتھ ہی وہ معاملے پر خفیہ ایجنسیوں کے خصوصی تعاون پر بھی مشکور ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے دی وینس نے ریاست اوہایو میں واقع اپنی رہائش گاہ پر توڑ کے واقعے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کیا ہے۔
اپنے بیان میں نائب صدر نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اظہار یکجہتی کرنے والوں کے پیغامات پر شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا ایک دیوانے شخص نے میرے گھر کی بیرونی حصہ کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے پر سیکریٹ سروس اہلکاروں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے معاملے پر مکمل تعاون کیا۔
قبل ازیں امریکی ریاست اوہایو میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے گھر پر توڑ پھوڑ کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔
واقعے کے وقت جے ڈی وینس اور ان کے اہلخانہ گھر پر موجود نہیں تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی نائب صدر معاملے پر
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔