پمز اسپتال میں ڈاکٹروں کی سنگین مبینہ غفلت، پھیپھڑوں کے بجائے جگر کی بائیوپسی، مریضہ جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پمز اسپتال میں ڈاکٹروں کی سنگین مبینہ غفلت، پھیپھڑوں کے بجائے جگر کی بائیوپسی کیے جانے پر مریضہ جاں بحق ہوگئی۔
مریضہ کے لواحقین نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی میں درخواست دائر کر دی۔
آزاد کشمیر ڈڈیال سے تعلق رکھنے والی خاتون مریضہ عابدہ پروین پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا تھی۔ مریضہ کو 9 دسمبر کو پمز اسپتال کے پلمونولوجی ڈیپارٹمنٹ میں داخل کیا گیا۔
ایچ او ڈی پلمونولوجی ڈاکٹر محمد اسرار نے پھیپھڑوں کی بائیوپسی کا فیصلہ کیا اور 16 دسمبر کو پمز اسپتال میں لنگز بائیوپسی کی گئی لیکن بائیوپسی کے چند گھنٹے بعد مریضہ کی اسپتال میں ہلاکت ہوگئی۔
شوکت خانم لیبارٹری سے بائیوپسی رپورٹ میں حیران کن انکشاف ہوا۔ ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق پمز اسپتال کے ڈاکٹروں نے پھیپھڑوں کے بجائے مریضہ کے جگر کا ٹشو نکالا۔
مزید پڑھیںپمز ہسپتال میں سیئنر ڈاکٹر کا زیر تربیت ڈاکٹر پر بدترین تشدد
بائیوپسی رپورٹ ملنے پر لواحقین نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو درخواست دے دی۔
لواحقین نے ایچ او ڈی پلمونالوجی ڈاکٹر محمد اسرار اور ڈاکٹر ہارون اشرف خان سمیت پلمونالوجی ڈیپارٹمنٹ پروسیجر روم میں موجود دیگر ڈاکٹروں اور عملے کو بھی ذمہ دار قرار دیا ہے۔
مریضہ عابدہ پروین کے لواحقین نے پمز اسپتال سے جاری شدہ سلپس، لیبارٹری رپورٹس بھی درخواست کے ساتھ جمع کروا دی ہیں۔
دوسری جانب، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی حکام نے درخواست موصول کرتے فوری کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پھیپھڑوں کے اسلام آباد پمز اسپتال اسپتال میں لواحقین نے
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔