WE News:
2026-07-24@05:45:36 GMT

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

ڈاکٹر سائمن گوڈیک ایک ممتاز مغربی سائنس دان، دانشور اور کانسپرنسی تھیورسٹ ہیں۔ ان کی کئی تھیوریز سوشل میڈیا پربڑی وائرل ہوئیں۔ آج کل ڈاکٹر سائمن کی “ٹریڈ آف” تھیوری ڈسکس ہو رہی ہے، یہ امریکا کے وینزویلا پر حملے کے حوالے سے ہے۔

اس “ٹریڈ آف” تھیوری پر بات کرنے سے پہلے ڈاکٹر سائمن گوڈیک کی آرا پر نظر ڈالتے ہیں جسے ان کے ناقدین سازشی تھیوریز قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر سائمن کا فکر کے بنیادی اجزا یہ ہیں: دنیا اصل میں عوام نہیں، ایلیٹ یعنی اشرافیہ چلا رہی ہے۔ ریاستیں ڈمی ہیں، اصل فیصلے بند دروازوں کے پیچھے بین الاقوامی پاور سرکلز میں ہوتے ہیں۔ جنگیں، وبائیں،معاشی بحران وغیرہ یہ سب مصنوعی اور کنٹرول کرنے کے ٹولز ہیں۔

ڈاکٹر سائمن گوڈیل کی تھیوریز

ڈاکٹر سائمن کے مطابق اصل طاقت امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس (اسلحہ ساز انڈسٹری )،ٹیک سنسر شپ نیٹ ورکس (فیس بک، واٹس ایپ ، ٹوئٹر ایکس ، ٹیلی گرام ، یوٹیوب وغیرہ وغیرہ )،بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں اور دنیا کے چند امیر ترین افراد کے ہاتھ میں ہے۔ سائمن گوڈیک مغربی میڈیا کے بھی شدید نقاد ہیں۔ ان کے مطابق ویسٹرن میڈیا جھوٹا اور کمپرومائزڈ ہے۔ یہ کرائسس کے وقت ایک ہی زبان بولتا ہے، صرف مخصوص سرکاری بیانیہ۔ جو ان سے اختلاف کرے اس کی بات کو ڈس انفارمیشن اور کانسپرنسی تھیوری کہہ کر تمسخر اڑاتے ہیں۔

صدام کے تباہ کن ہتھیاروں کا جھوٹ ہو، لبیا میں قذافی کی حکومت بدلنا، افغانستان پر حملے کا جواز بنانا اور پھر پچھلے برسوں میں کووڈ، تائیوان، یوکرائن وار اور غزہ ہر جگہ اسی میڈیا نے ایک ہی کردار ادا کیا۔ تواتر سے جھوٹ بولے۔

کووڈ کا اس لیے ذکر آیا کہ ڈاکٹر سائمن کووڈ کے بھی ناقد ہیں اور اس پر سوال اٹھاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اس سب کے پیچھے بھی کوئی بڑی گیم تھی اور یہ وبا اچانک نہیں آئی، اسے پھیلایا گیا اور اس کے پیچھے کچھ اور مقاصد تھے۔ سائمن الیکشن کو بھی شک کی نظر سے دیکھتے ہیں، وہ امریکی صدارتی الیکشن پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق انتخابات عوام کو مصروف رکھنے کا طریقہ ہیں جبکہ اصل طاقت منتخب اداروں کے پاس نہیں، بلکہ وہیں رہتی ہے جہاں پیسہ، اسلحہ اور ڈیٹا اکٹھا ہو۔ عوام کو سب کچھ جاننے کی اجازت نہیں،کیونکہ اگر وہ جان لیں تو نظام کا جادو ٹوٹ جائے گا۔

وہ اخلاقیات کا بھی بے رحمی سے پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی قوتیں خاص کر مغرب اخلاقیات کی باتیں اپنے مفاد اور مطلب میں کرتا ہے۔ انسانی حقوق اور جمہوریت جنگ کے اسباب نہیں،بلکہ جنگ کو بیچنے کے الفاظ ہیں۔

‘ٹریڈ آف’

ڈاکٹر سائمن گوڈیل کی ٹریڈ آف تھیوری بھی دلچسپ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اشرافیہ اگر کووڈ جیسی وبا مینیج کر سکتی ہے تو پھر ممالک کے جغرافیہ بھی یہ مینیج کر سکتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دنیا تیسری ورلڈ وار کی متحمل نہیں ہوسکتی، اس لیے اشرافیہ اور دنیا کے کرتا دھرتا براہ راست ٹکراؤ سے گریز کریں گے۔ اس کے بجائے خاموش مفاہمت، مخصوص مواقع پر اشتعال اور احتجاج جبکہ زور پراکسی وارز پر لگایا جائے گا۔

یوکرائن وار کے دوران ڈاکٹر سائمن نے اندازہ لگایا کہ امریکا اب گلوبل پولیس مین کے کردار سے تھک گیا ہے، روس براہ راست ٹکراؤ نہیں چاہتا جبکہ چین صرف وقت لے رہا ہے۔ اس لیے کوئی بعید نہیں کہ ان معاملات میں یہ سپرپاورز آپس میں اندرکھاتے کوئی ڈیل کرچکی ہوں۔ یہ ڈیل یوکرائن، تائیوان اور لاطینی امریکا میں ہوسکتی ہے۔ دنیا نقشے پر نہیں،طاقت کے دائرے میں تقسیم ہو رہی ہے۔ شور عوام کے لیے ہے، حساب کتاب بند کمروں میں۔

وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد ڈاکٹر سائمن گوڈیل نے اپنی ٹریڈ آف تھیوری پھر سے بیان کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کے علاوہ دوسری دونوں بڑی قوتوں نے وینزویلا کا اس طرح ساتھ کیوں نہیں دیا جیسا دینا چاہیے تھا؟ وہ مذمت تو کر رہی ہیں، مگر اس مذمت سے کیا وینزویلین صدر واپس اقتدار میں آجائے گا؟ ظاہر ہے نہیں۔ ڈاکٹر سائمن گوڈیل کو خدشہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ امریکا نے یوکرائن میں روس کو اس کا من پسند بڑا حصہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہو جبکہ عین ممکن ہے ایسا تائیوان میں چین کو کرنے دیا جائے جبکہ جواب میں امریکا نے وینزویلا میں اپنی ناپسندیدہ حکومت تبدیل کرکے ایک طرح سے پورا ملک ہی اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ کولمبیا میں یہی سب کچھ ری پلے ہوجائے اور یہ سب دیگر بڑی قوتوں کی خاموش رضامندی سے ہو؟

وینزویلا کے بعد اگلا ہدف کون؟

ڈاکٹر سائمن گوڈیل کی باتیں تو چلو کانسپرنسی تھیوریز میں آتی ہیں۔ کانسپرنسی یا سازشی تھیوری کا یہی مسئلہ ہے کہ وہ سچ بھی ثابت ہوجاتی ہے اور بے بنیاد بھی نکلتی ہیں ۔ اس لئے ہم اسے سردست چھوڑ دیں تب بھی یہ تو بہرحال حقیقت ہے کہ امریکا نے اپنے اس اقدام سے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے مگر اس طرح کا شدید ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ امریکی ڈیلٹا فورس ایک ملک میں گھس جائیں اور جھپٹ کر اس کے صدر کو بیوی سمیت اغوا کرکے اپنے ملک لے آئیں اور پھر کمال ڈھٹائی کے ساتھ اس پر مقدمہ بھی چلانا شروع کر دیں۔ پچھلے پچیس تیس برسوں میں ایسا ہوا نہ کسی کو ایسا کرنے کی توقع تھی۔

بعض لوگ 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں آپریشن کا تذکرہ کریں گے۔ وہ آپریشن بھی نہایت افسوسناک تھا، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا،مگر یہ بہرحال یاد رکھیں کہ وہ کسی پاکستانی شہری کے خلاف نہیں تھا۔ دنیا کے سب سے مطلوم مجرم کے خلاف آپریشن تھا اور پاکستانی حکومت بھی اس مجرم کے خلاف تھی، اسے پکڑنے کے لئے کئی آپریشن اور کارروائیاں کر چکی تھی۔ تب پاکستانی اور امریکی اہلکار القاعدہ اور طالبان کے خلاف بعض مشترکہ آپریشن بھی کررہے تھے۔ ایبٹ آباد آپریشن میں بھی پاکستان یہ اعتراض نہیں کر سکتا تھا کہ اس بندے کو کیوں مارا؟

اعتراض یہ تھا کہ بغیر اجازت پاکستانی سرزمین میں کیوں گھس کر کارروائی کی۔ ہمیں پہلے سے بتاتے تو ہم مشترکہ آپریشن کرتے۔ یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ ایبٹ آباد آپریشن درست تھا۔ نہیں وہ ہر اعتبار سے غلط اور غیر قانونی، غیر اخلاقی تھا۔ عالمی قوانین کی دھجیاں اڑآئی گئی تھیں۔ تاہم وینزویلا کے صدر کو ان کے اپنے ملک، شہر میں گھس کو اٹھالانا تو بالکل ہی مختلف نوعیت کا معاملہ ہے۔ انتہائی سنگین قوانین کی خلاف ورزی۔ یہ سب مگر ہوا اور دنیا صرف برائے نام مذمت کے کچھ بھی نہیں کر رہی۔

اس سے اب ہو گا کیا؟ بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ امریکا اور صدر ٹرمپ عالمی ردعمل کی سرے سے کوئی پروا نہیں کر رہے۔ وہ صرف امریکہ کو طاقتور ترین ملک بنانا چاہتے ہیں جس کے ہاتھ میں دنیا کی نادر ترین معدنیات، تیل اور گولڈ کے ذخائر ہوں۔ وینزویلا کے خلاف آپریشن میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ مقصد صرف صدر کو ہٹانا نہیں بلکہ ملک کو کنٹرول کرکے چلانا ہے اور اب وینزویلا کا تیل امریکی کمپنیاں ہی ڈیل کریں گی۔ جس خاتون نائب صدر نے اقتدار سنبھالا ہے، ان کے بارے میں بھی مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ انہوں نے مخبری کی تھی اور دراصل وہ سی آئی اے کی اثآثہ یعنی ایجنٹ ہیں۔

یہ بات اس لئے بھی قرین قیاس لگ رہی ہے کہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر جنہیں پچھلے سال نوبیل انعام بھی ملا، صدر ٹرمپ انہیں بھی رد کر چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ صدر مادورو کی نائب صدر کو ان کی خدمات کا صلہ دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ وہ صدر بن گئی ہیں اور اب وہ وہی کریں گی جو صدر ٹرمپ چاہیں گے۔

کولمبیا،گرین لینڈ، ایران

ماہرین اندازے لگا رہے، تجزیے کر رہے ہیں کہ اگلا ہدف کون ہوسکتا ہے۔ کولمبیا ایک آسان ہدف نظر آرہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ہی اپنے انٹرویو میں کولمبین صدر پر سخت تنقید کی اور انہیں اپنے مخصوص انداز میں بیمار شخص قرار دیا۔ کوئی بعید نہیں کہ اگلے چند دنوں میں وہاں بھی رجیم چینج ہوجائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وینزویلا کے آپریشن سے کولمبین حکومت سہم کر وہ سب مان لے جو صدر ٹرمپ چاہتے ہیں۔

گرین لینڈ اپنی رئیر ارتھ منرلز کی وجہ سے صدر ٹرمپ کو بہت مرغوب ہے۔ وہ کئی بار پہلے بھی اشارہ دے چکے ہیں کہ یہ علاقہ روسی اور چینی جہازوں میں گھرا ہے اور امریکا کو اپنے دفاع کے لئے گرین لینڈ چاہیے۔ اس وقت ڈنمارک کا اس پر کنٹرول ہے، مگر ڈنمارک امریکی کی مدافعت کرنے کی قطعی پوزیشن میں نہیں۔ ڈنمارک کی وزیراعظم نے البتہ یہ دھمکی دی ہے کہ اگرگرین لینڈ پر امریکا نے قبضہ کیا تو پھر نیٹو ٹوٹ جائے گا کیونکہ نیٹو کے قانون کے مطابق ایک نیٹو ممبر پر کسی ملک کا حملہ پورے نیٹو پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی نظروں میں نیٹو کی کس قدر اہمیت ہے؟ کیا خبر وہ چاہتے ہوں کہ یہ پرانا بوسیدہ، ازکار رفتہ اتحاد نیٹو اب ٹوٹ ہی جائے۔

ایران پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ایران کو باقاعدہ دھمکی دے چکے ہیں ۔ دوسری طرف ایران میں عوامی مظاہرے اس قدر شدید ہوچکے ہیں کہ حکومت عملاً مفلوج ہوچکی۔ ان مظاہروں میں امریکا کا کوئی لینا دینا نہیں۔ ایران کی تباہ حال معیشت، خوفناک حد تک نیچے گر جانے والی ایرانی کرنسی اور کئی عوامی حلقوں کی موجودہ ایرانی رجیم سے ناخوشی اور اختلاف شامل ہے۔ البتہ ایران میں صورتحال اس حد تک مختلف ہے کہ وہاں پر امریکا حملہ یا اسرائیل کی جانب سے عوامی مظاہروں کی حمایت سے بھی عوامی احتجاج کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ایرانی اپوزیشن یہ ہرگز نہیں چاہتی کہ امریکا حملہ کرے کیونکہ ایسی صورت میں عوام حکومت کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔

گزشتہ 2 دنوں سے کئی مغربی جرائد ایرانی رہبر انقلاب کے حوالے سے منفی خبریں بھی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے حالات زیادہ بگڑنے کی صورت میں روس جانے کی پلاننگ کر رکھی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب سائیکالوجیکل وارفیئر کا حصہ لگ رہا ہے۔ ایران میں تبدیلی جب بھی آئے گی اندر سے آئے گی، حالات وہاں اس وقت خاصے مشکل اور پریشان کن ہوچکے ہیں، تاہم امریکی حملہ ایران میں حکومت نہیں تبدیل کر سکتا۔

ویسے دنیا بھر میں ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ سے کسی بھی قسم کے انتہائی قدم کی توقع کی جانی چاہیے۔ وینزویلا پر حملے نے ایک بڑا بیرئر توڑ ڈالا ہے۔ اب یہ طوفان کس کس کو بہا کر لے جائے، کوئی نہیں جانتا۔ ہر کوئی اپنی جگہ سہما بیٹھا ہے، وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کرنا چاہتے جس سے ان کا نمبر جلدی لگ جائے۔

روس اور چین جیسی سپر پاورز بھی نجانے کیا سوچ رہی ہیں؟ شائد وہ اپنے انداز اور اپنے حساب سے اگلی جنگیں لڑنا چاہتے ہیں، معیشت کے میدان میں۔ یا پھر اپنی ٹیکنالوجی اور عسکری مہارت کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ امریکا کو پیچھے چھوڑسکیں۔ ویسے تو کون جانے اس سب کے پیچھے اصل اور حقیقی کھیل کیا کھیلا جارہا ہے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

ٹرمپ صدر وینزویلا مادورو عامر خاکوانی وینزویلا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: صدر وینزویلا مادورو عامر خاکوانی وینزویلا وینزویلا کے چاہتے ہیں ایران میں امریکا نے کہ امریکا کے پیچھے کے مطابق کے ساتھ کے خلاف نہیں کر ٹریڈ آف نہیں کہ جائے گا رہی ہے صدر کو ہیں کہ رہا ہے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران