ڈیموکریٹک کی ٹرمپ انتظامیہ پر کڑی تنقید، وینزویلا پر حملہ غیر قانونی قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ڈیموکریٹک کی ٹرمپ انتظامیہ پر کڑی تنقید، وینزویلا پر حملہ غیر قانونی قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 6 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن (آئی پی ایس): امریکا کے ہاؤس ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفریز نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے منشیات کے بہانے کو مسترد کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ اگر ٹرمپ اس سلسلے میں سنجیدہ ہوتے تو گزشتہ ماہ وہ منشیات میں سزا یافتہ ایک سابق صدر کو رہا نہ کرتے۔
حکیم جیفریز نے کاراکاس کارروائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کانگریس کی منظوری کے بغیر وینزویلا پر حملہ غیر قانونی کارروائی ہے، امریکی عوام ایک اور غیر ملکی جنگ کو مسترد کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا ٹرمپ نے منشیات کے جرم میں قید سابق صدر ہنڈوراس کی سزا معاف کر دی، اگر ٹرمپ سنجیدہ ہوتے تو گزشتہ ماہ سزا یافتہ قیدی کو رہا نہ کرتے، امریکا میں کانگریس پر حملہ کرنے والے آج جمہوریت کا درس دے رہے ہیں، کل کپیٹل ہل حملے کی برسی منائی جائے گی۔
واضح رہے کہ وینزویلا حملے پر امریکی عوام تقسیم ہو گئی ہے، ایک سروے رپورٹ میں اکثریت نے امریکی حملے کی مخالفت کی ہے۔
وینزویلا کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں کہا گیا کہ وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی میں عالمی قانون کی پاسداری نہیں کی گئی۔ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ وینزویلا میں امریکا کی فوجی کارروائی غیر قانونی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر اعظم نے اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر آفر کی لیکن عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، رانا ثنااللہ وزیر اعظم نے اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر آفر کی لیکن عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، رانا ثنااللہ ڈی جی آئی ایس پی آر آج اہم پریس کانفرنس کریں گے پاکستان کی بزنس کمیونٹی آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کیلئے کردار ادا کرے گی، عاطف اکرام شیخ مجھے اغوا کیا گیا، وینزویلا کا صدر ہوں، الزامات بے بنیاد ہیں: مادورو کا عدالت میں بیان اسلام آباد کو بھی شنگھائی کی طرز پر ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں: محسن نقوی فساد پھیلانے والوں کیلئےکوئی رعایت نہیں، قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی: چیف جسٹس ایرانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پر حملہ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔