data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260106-01-19
کوپن ہیگن: (ویب ڈیسک) ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹ فریڈرکسن نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں دینا بند کریں۔ڈینش وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کے لیے گرین لینڈ پر قبضے کی ضرورت کے بارے میں بات کرنا بالکل بے معنی ہے، امریکا کو ڈنمارک کی بادشاہت کے 3ممالک میں سے کسی کو ضم کرنے کا حق نہیں ہے۔میٹ فریڈرکسن کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب ٹرمپ کے ایک مشیرا سٹیفن ملر کی اہلیہ کیٹی ملر نے گرین لینڈ کا نقشہ امریکی پرچم کے رنگوں میں اور ساتھ لفظ ’’جلد‘‘ لکھ کر ٹویٹ کیا، ٹرمپ نے بارہا گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت اور معدنی وسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اسے امریکا کا حصہ بنانے کے امکان کا ذکر کیا ہے۔ڈنمارک کی وزیراعظم نے کہا کہ وہ امریکا سے براہِ راست مخاطب ہیں، گرین لینڈ سمیت ڈنمارک نیٹو رکن ہے، ڈنمارک کا امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے جو اسے گرین لینڈ تک رسائی دیتا ہے اور ڈنمارک نے آرکٹک خطے میں سیکورٹی پر سرمایہ کاری بڑھا دی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اس لیے امریکا سے سختی سے کہوںگی کہ وہ ایک قریبی اتحادی اور ایک دوسرے ملک اور عوام کے خلاف دھمکیاں دینا بند کرے، ہم نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ ہم فروخت کے لیے نہیں ہیں۔اس سے پہلے ائر فورس ون پر سوار ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہمیں قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ڈنمارک یہ نہیں کرسکے گا۔یہ معاملہ اس وقت زیرِ بحث ہے کہ جب امریکا نے وینزویلا کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کی، اس کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑ کر نیویارک منتقل کر دیا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم