نکولس مادورو کا بیٹا نکولاسیٹو منظر عام پر، امریکی کارروائی کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے بیٹے نکولس مادورو گویرا نے پہلی بار عوامی طور پر وینزویلا کے قانون ساز محل میں امریکی فوجی کارروائی کے خلاف بات کی، جس کے نتیجے میں ان کے والد اور سوتیلی والدہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
عوام میں ’نکولاسیٹو‘ کے نام سے معروف مادورو گویرا نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ مادورو اور فلورز کو فوری طور پر وینزویلا واپس بھیجا جائے۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم کسی سربراہ مملکت کے اغوا کو معمول سمجھ لیں، تو کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔
’آج وینزویلا کا نمبر آیا، کل یہ کسی بھی ایسے ملک کے ساتھ ہو سکتا ہے جو غلامی قبول کرنے سے انکار کرے۔ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سیاسی استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔‘
امریکی حکام نے صدر نکولس مادورو کے بیٹے پر بھی منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم ان کی صحت سے انہوں نے انکار کیا ہے۔
35 سالہ مادورو گویرا نے اپنے والد کے لیے محبت اور وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے لیے حمایت کا بھی اظہار کیا، جو صدر مادورو کی اتحادی ہیں۔
’آپ کو دی جانے والی نہایت مشکل ذمہ داری کے لیے میرا غیر مشروط تعاون حاضر ہے، ہم پر بھروسہ کریں، ہمارے خاندان پر بھروسہ کریں، ہم درست اقدامات اٹھانے میں آپ کے ساتھ ہیں، جو اب آپ کی ذمہ داری ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ امریکا ڈیلسی روڈریگز سوتیلی ماں عبوری صدر منشیات نکولس مادورو والد وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسمگلنگ امریکا ڈیلسی روڈریگز سوتیلی ماں منشیات نکولس مادورو والد وینزویلا نکولس مادورو کے لیے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔