سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر میاں عبدالوحید نے کہا کہ یوم حق خودارادیت کی قرارداد وہ واحد دستاویز ہے جس کے ذریعے اقوام عالم کے سامنے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیراہتمام یوم حق خودارادیت کے موقع پر کشمیر ہائوس اسلام آباد میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سیمینار کے مہمان خصوصی سینئر وزیر میاں عبدالوحید تھے۔ سیمینار میں سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان، سردار مسعود خان، راجہ محمد فاروق حیدر خان، سردار محمد عتیق خان، وزیر نبیلہ ایوب، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر راجہ ڈاکٹر محمد مشتاق، حریت رہنما الطاف بٹ، محترمہ شمیم شال، ڈاکٹر راجہ سجاد خان، راجہ خان افسر خان، سردار ساجد محمود، سردار علی شان، سردار نجیب الغفور، راجہ راشد رضا، خواجہ عمران الحق، سردار صدیق، ظفر مغل، راجہ بشیر، بشیر عثمانی، راجہ عبدالجبار، روبینہ بٹ اور دیگر سیاسی و سماجی رہنمائوں اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر میاں عبدالوحید نے کہا کہ 5جنوری یوم حق خودارادیت کا دن ہے اسکی اہمیت اور تاریخی پس منظر مسلمہ ہے، یوم حق خودارادیت کی قرارداد وہ واحد دستاویز ہے جس کے ذریعے اقوام عالم کے سامنے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری تنازعہ کشمیر کے اصل فریق ہیں جنہوں نے اپنی تحریک آزادی کیلئے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی تحریکیں ماہ و سال کی پابند نہیں، انشااللہ تحریک آزادی کامیابی سے ہم کنار ہو گی، ہمارے وکیل پاکستان نے کشمیر کیلئے تین جنگیں لڑیں، معرکہ حق کی بدولت مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر دنیا بھر میں اجاگر ہوا ہے۔ سردار محمد یعقوب خان نے کہا کہ آج کا دن مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی اس قرارداد پر عمل درآمد کروائے۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگ مشکلات کے باوجود بھارت سے آزادی لیکر رہیں گے۔

راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ 5 اگست کے یکطرفہ بھارتی اقدامات کشمیریوں کو قبول نہیں ہیں، آج کا دن کشمیریوں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی اس قرارداد پر عملدرآمد کروائے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ حق خودارادیت کشمیریوں کا بنیادی حق ہے، اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی اس قرارداد پر عملدرآمد کروائے، امریکہ میں سفارتکاری نے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور انشاءاللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ملے گا۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ پانچ جنوری مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس دن اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیاتھا۔ بھارت کے 5 اگست کے اقدامات غیر قانونی ہیں اور وہ ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

محترمہ نبیلہ ایوب اوردیگر مقررین نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق اپنی قرارداد پر عملدرآمد کروائے اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق دے۔ انہوں نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے کشمیری عوام اپنے پیدائشی حق خودارادیت سے مسلسل محروم ہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو بھی ان کے یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو نے کشمیر پر ایک ہزار سال تک جنگ کا آفاقی نظریہ دیا اور ایٹمی پاکستان کی بنیاد رکھ کر پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یوم حق خودارادیت انہوں نے کہا کہ خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کشمیریوں کو کشمیر کے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل