بھارتی مظالم کیخلاف آواز بلند,پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں نے یوم حق خودارادیت منا یا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-01-14
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں نے گزشتہ روز (5 جنوری) یوم حق خودارادیت منا یا۔ بین الاقوامی سطح پر یومِ حقِ خودارادیت منانے کا مقصد عالمی برادری کو یاد دلانا ہے کہ بھارتی غاصبیت کی وجہ سے کشمیری عوام کو آج تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جا سکا۔ یوم حق خودارادیت کے موقع پر ملک بھر کے علاوہ کئی ممالک میں مختلف تقریبات، ریلیوں اور احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیاگیا۔ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں آزادی چوک پر رات گئے مشعل بردار ریلی نکالی گئی، جس میں بھارتی مظالم کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ شرکا نے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ یاد رہے کہ 5 جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی، جس کے تحت کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ ہر سال اس دن کو منانے کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی نہیں کر سکتی۔ یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد 7 دہائیوں بعد بھی جاری ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی مؤثر اور قابلِ عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا کشمیریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھنا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں سیاسی آزادیوں پر سخت پابندیاں عاید ہیں، جبری قوانین، طویل قید و بند اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں خوف کی فضا کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عام شہری تشدد اور بے گھری کا شکار ہیں۔ بھارت کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا گیا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یو این کمیشن برائے بھارت و پاکستان نے اس دن تاریخی قرارداد منظور کی تھی، جس کے تحت ریاستِ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا تھا۔ شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی قبضے کے باعث یہ عہد آج تک پورا نہ ہو سکا ، جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جبر و تشدد کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام کا عزم کمزور نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے جابرانہ اقدامات کے خاتمے کے لیے مؤثر عملی اقدامات کرے۔
لاہور: کشمیریوںسے اظہار یکجہتی کے لیے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا جارہا ہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی کشمیری عوام نے کہا کہ
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔