حق خودارادیت کی جدوجہد میں کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، حاجی حنیف طیب
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
چیئرمین نظام مصطفی پارٹی نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں طاقتور ممالک، تمام انصاف پسند حلقوں سے اپیل کی اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مقبوضہ کشمیر کی عوام کی حق خودارادیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مسلم حکمرانوں کو غیرت ایمانی اور جذبہ حریت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین نظام مصطفی پارٹی سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹر حاجی حنیف طیب نے حق خودارادیت کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 5 جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی تھی کہ رائے شماری کے ذریعے جموں و کشمیر کی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا جائے، 77 سال گزر گئے اقوام متحدہ اپنی منظورکردہ قرادادوں پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہا جبکہ بھارت نے بھی ان قراردادوں کو تسلیم کیا تھا لیکن اس نے بھی اس پر عمل درآمد ہونے نہیں دیا، اتنے عرصہ میں بھارتی فورسز کی جانب لاکھوں کشمیری شہید کردیئے گئے، ہزاروں زخمی ہیں، ہزاروں قید اور گمشدہ ہیں، مسلم عالمی تنظیموں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شرمناک غفلت کا مظاہرہ کیا ہے جو کہ افسوس ناک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حق خودارادیت
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔