سندھ ہائیکورٹ: لاپتا شہریوں کی بازیابی سے متعلق درخواست پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے لاپتا شہریوں کی بازیابی سے متعلق درخواست پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیدیا۔
ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو لاپتا شہریوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ لاپتا شہریوں کو پولیس اہلکاروں نے گھر سے حراست میں لیا تھا۔ گھر پر چھاپے کے بعد سچل تھانے سے حراست میں لیے گئے افراد کے لیے رابطہ کیا۔
پولیس اسٹیشن نے لاعلمی کا اظہار کیا اور تاحال شہریوں کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ فریقین کی جانب سے جمع کروائے گئے جوابات کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنالیا گیا۔
عدالت نے درخواستگزار کو ایف آئی آر درج کروانے کے لیے متعلقہ تھانے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے لاپتا شہریوں کی تلاش کے لیے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیدیا۔
شاہ ولی اللہ اور عبد اللطیف کی بازیابی کیلئے مسمات رابعہ بصری نے درخواست دائر کی تھی, درخواست میں آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ویسٹ کراچی، سی ٹی ڈی سول لائن، ایس ایچ اوسچل اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف آئی آر درج لاپتا شہریوں کی بازیابی
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔