سٹاک مارکیٹ: نیاریکارڈ،182408 پوائنٹس پر بند:سونا تولہ 9200روپے مہنگا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
کراچی (کامرس رپورٹر) نئے سال میں بھی پاکستان سٹاک ایکسیچنج کی ریکارڈ توڑکارکردگی جاری، کاروباری ہفتے کے پہلے روز ایک اور نئی تاریخ رقم ہو گئی۔ پہلی بار100 انڈیکس 3300 پوائنٹس کے اضافے سے 1 لاکھ 82 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر کے بند ہوا۔ مارکیٹ کے سرمائے میں 297 ارب روپے کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا اور 53 فیصد حصص کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں جبکہ کاروبار کے دوران انڈیکس 4930 پوائنٹس کے اضافے سے 183,964پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر ٹریڈ ہوا۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں پیر کو کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3373 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 179,034 پوائنٹس سے بڑھ کر 182,408 پوائنٹس پر بند ہوا، اسی طرح 1132پوائٹس کے اضافے سے کے ایس ای 30 انڈیکس56,150 پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 107,392پوائنٹس سے بڑھ کر 108,970پوائنٹس پر جا پہنچا۔ انٹربنک میں امریکی ڈالر 280.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔