بنگلہ دیش: اسلامی جماعتوں کا انتخابی اتحاد سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بحران کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش میں آئندہ عام انتخابات سے قبل اسلامی جماعتوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم پر مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
جماعتِ اسلامی اور اسلامی اندولن بنگلہ دیش کے درمیان جاری سیٹ ایڈجسٹمنٹ مذاکرات کئی دور ہونے کے بعد اب تعطل کا شکار ہیں۔
مذاکرات میں سب سے بڑا اختلاف قومی اسمبلی کی 300 نشستوں کی تقسیم پر سامنے آیا ہے، جس کے باعث دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کو مداخلت کرتے ہوئے بات چیت دوبارہ شروع کرنا پڑی۔
انتخابی شیڈول کے مطابق امیدواروں نے 29 دسمبر تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے تھے، جبکہ کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ 20 جنوری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
اتحادی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس ٹائم لائن نے باہمی اختلافات جلد حل کرنے کے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلامی اندولن نے ابتدائی طور پر 100 سے زائد نشستوں کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ دیگر اتحادی جماعتیں بھی بڑی تعداد میں نشستوں کی خواہاں تھیں۔
اس دوران نیشنل سٹیزنز پارٹی سمیت دیگر چھوٹی جماعتوں کی اتحاد میں شمولیت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور بعض حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔
جماعتِ اسلامی نے بعد ازاں اسلامی اندولن کو 35 سے 40 نشستیں دینے اور دیگر اتحادیوں کو کم تعداد میں نشستیں دینے کی تجویز پیش کی، تاہم اس پیشکش پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔
مزید پڑھیں:
اسلامی اندولن کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ جماعتِ اسلامی این سی پی کو غیر متناسب اہمیت دے رہی ہے، جس کے باعث ان حلقوں کی اہمیت کم ہو رہی ہے جہاں طویل عرصے سے تیاری کی جا رہی تھی۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی کارکنان کی ناراضی دیکھنے میں آئی ہے۔
مذاکرات کے طول پکڑنے کے باعث جماعتِ اسلامی اور اسلامی اندولن سمیت کئی جماعتوں نے احتیاطی طور پر بڑی تعداد میں حلقوں سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے۔
جماعتِ اسلامی نے 276 جبکہ اسلامی اندولن نے 268 نشستوں پر امیدوار نامزد کیے جبکہ دیگر اتحادی جماعتوں نے بھی درجنوں حلقوں میں نامزدگیاں جمع کرائیں۔
مزید پڑھیں:
رہنماؤں کا کہنا ہے کہ متنازع نشستوں کا فیصلہ مشترکہ سروے کی بنیاد پر ہونا تھا، جو تاحال نہیں ہو سکا۔
تاہم مذاکرات کاروں کا دعویٰ ہے کہ بات چیت جاری ہے اور آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو سکتی ہے۔
جماعتِ اسلامی کے بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اسلامی اندولن کا تازہ مطالبہ، جس میں 70 سے 75 نشستیں مانگی جا رہی ہیں، حقیقت پسندانہ نہیں۔
دوسری جانب اسلامی اندولن کا کہنا ہے کہ نشستوں کی تقسیم ہر حلقے میں جماعتی اہلیت اور مقبولیت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں:
دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں انتخابات سے قبل اسلامی جماعتوں کے وسیع تر اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ادھر این سی پی نے جماعتِ اسلامی پر زور دیا ہے کہ پہلے اشارہ کی گئی 30 نشستوں کی تعداد کم نہ کی جائے، جبکہ امر بنگلہ دیش پارٹی کا کہنا ہے کہ اتحاد کا مجموعی ڈھانچہ، سیاسی ایجنڈا اور نشستوں کی حتمی تعداد اب تک طے نہیں ہو سکی۔
جماعتِ اسلامی کے عہدیداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ سے قبل کوئی قابلِ قبول سمجھوتہ طے پا جائے گا، جبکہ اسلامی اندولن کی قیادت کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ وہی ہو گا جو ’اسلام، قوم اور انسانیت‘ کے مفاد میں ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلامی اندولن امر بنگلہ دیش پارٹی بنگلہ دیش جماعت اسلامی ڈھاکہ سروے عام انتخابات قومی اسمبلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلامی اندولن امر بنگلہ دیش پارٹی بنگلہ دیش جماعت اسلامی ڈھاکہ سروے عام انتخابات قومی اسمبلی اسلامی اندولن کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش نشستوں کی
پڑھیں:
قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔
امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔
محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔
Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.
Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH
— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026
انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔
کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔
یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری
تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔
اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا
گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔
تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور
ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر