اسلام ٹائمز: ایرانی انٹیلیجنس ادارے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان گروہوں کا بدامنی میں ایک بنیادی کردار اور ایک ثانوی کردار ہوتا ہے اور یہ مرحلہ وار اور حالات کے مطابق اسے عملی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران، سوشل میڈیا میں انسٹاگرام کو جذبات بھڑکانے کے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا اور ٹیلیگرام کو عوامی اور عملی سطح پر نیٹ ورک بنانے کے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر۔ خصوصی رپورٹ:

حالیہ دنوں میں ایران میں ہونے والی بعض بدامنیوں کے بارے میں ابتدائی انٹیلیجنس جائزوں سے جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس بار ایک ایسی نامعلوم یا کم پہچانی جانے والی انکرپشن ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ کوشش کی گئی کہ مقامی اپوزیشن لیڈروں اور بیرون ملک سرغنوں کے درمیان رابطہ قائم رکھا جائے، اجتماعات کی رہنمائی کی جائے، انہیں ہنگامہ آرائی میں بدلا جائے اور پھر ہڑتالیں کرائی جائیں۔ ٹیکنالوجی کی اس نئی پیچیدگی نے لیڈروں کی شناخت اور سروسز کے عناصر کو عام معترضین سے الگ کرنے کا کام مزید مشکل بنا دیا۔

لیکن گرفتاریوں سے متعلق اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ شرپسند عناصر کی شناخت کی کارروائیاں اچھی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھی ہیں، اور یہاں تک کہا جا سکتا ہے کہ کچھ شعبوں میں انٹیلیجنس اداروں نے واضح کامیابیاں حاصل کیں اور نئی مہارتیں اور تجربات بھی حاصل ہوئے۔ اس کے علاوہ، جنگ کے بعد کے مرحلے میں ہنگامہ آرائی پیدا کرنا انٹیلیجنس سروسز کا طے شدہ منصوبہ تھا، لیکن یہ حقیقت کہ بہت کم وقت میں بدامنی ابتدائی طور پر ہی کم ہونے لگی اور ہنگامہ آرائی نہ تو وسیع پیمانے پر پھیلی اور نہ ہی اس کے جغرافیائی مراکز زیادہ بڑھے، اس بات کی علامت ہے کہ پچھلے چند مہینوں میں انٹیلیجنس کی طرف سے مؤثر پیشگی اور حفاظتی اقدامات کیے گئے۔

گزشتہ چند مہینوں کی انٹیلیجنس جنگ صرف ایران کے اندر تک محدود نہیں رہی بلکہ ایران کی سرحدوں کے باہر بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ سرگرم رہی ہے۔ دہشت گرد اور علیحدگی پسند گروہوں کو غیر معمولی طور پر زیادہ مضبوط کیے جانے کے مقابلے میں نگرانی، قابو اور مقابلہ کرنے کی کوششیں دن رات جاری ہیں۔ ایرانی انٹیلیجنس ادارے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان گروہوں کا بدامنی میں ایک بنیادی کردار اور ایک ثانوی کردار ہوتا ہے اور یہ مرحلہ وار اور حالات کے مطابق اسے عملی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران، سوشل میڈیا میں انسٹاگرام کو جذبات بھڑکانے کے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا اور ٹیلیگرام کو عوامی اور عملی سطح پر نیٹ ورک بنانے کے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر۔

ان دونوں پلیٹ فارمز کا مشترکہ ہدف یہ تھا کہ چھوٹے سڑکوں والے اجتماعات کو نفسیاتی حربوں اور تکنیکی الگورتھمز کے ذریعے اکثریت کے طور پر دکھا کر عوامی رائے میں شامل کیا جائے۔ ابتدائی جائزے میں بہت جلد واضح ہو گیا کہ ان دونوں پلیٹ فارمز پر حالیہ بدامنی کے حوالے سے جو مواد شائع ہوا وہ 1401 کی بدامنیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ منظم اور منظم طریقے سے چلایا گیا تھا اور عوام اور عام کارکنوں کا حصہ پہلے سے کم دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ اندرون اور بیرونِ ایران تجزیاتی حلقوں میں ایک اہم سوال اٹھا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے حکام نے اس بار پہلے کے مقابلے میں زیادہ جلدی اور زیادہ واضح انداز میں ہنگامہ کرنے والوں کی حمایت اور اپنی شمولیت کا اظہار کیوں کیا؟

اس بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وہی غلط اندازے اور غلط مشورے ہیں جو 12 روزہ جنگ شروع کرنے کے وقت امریکی اور اسرائیلی حکام کو دیے گئے تھے، اور وہی ایران کے معاشرے کے بارے میں غلط فہمی اب دوبارہ دہرائی گئی ہے۔ مزید یہ کہ 12 روزہ جنگ کے فوراً بعد اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے اندرونِ ایران بدامنی پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر انٹیلیجنس تیاری، مدد اور ماحول سازی کی گئی، اور انہیں یہ فکر بھی تھی کہ وقت ایران کے حق میں جا رہا ہے، یعنی ایران کی فوجی، سیاسی، سماجی طاقت کی بحالی اور مزید اضافہ، اور حتیٰ کہ کچھ اقتصادی اصلاحات کے اقدامات بھی وقت کے ساتھ مضبوط ہو سکتے ہیں۔

اسی لیے ان کے اندر یہ سوچ بنی کہ بدامنی کا نیا مرحلہ فوراً شروع کیا جائے تاکہ شاید کوئی راستہ نکل آئے کہ “کام تمام کر دیا جائے”۔ لیکن اس سوال کا ایک اور جواب بھی دیا جا سکتا ہے۔ اگر ان چند دنوں کے واقعات کو ایک مکمل منصوبے کے “پزل” کے طور پر جوڑ کر دیکھا جائے تو ایک زیادہ مخصوص مفروضہ سامنے آتا ہے۔ عوامی ذہن کو جھٹکا دینے اور اشتعال پیدا کرنے کے لیے منظم تخریب کاری، سڑکوں پر زیادہ تشدد، احتجاج کو ہنگامہ آرائی میں بدلنا، ملک کے حساس اقتصادی شعبوں میں خلل پیدا کرنا، کچھ مخصوص طبقات کو ساتھ ملانا، اور پھر اس سب کے ساتھ ٹرمپ کی طرف سے ایران کے خلاف جلدی اور کھلے انداز میں دھمکی آمیز مؤقف اختیار کرنا، جس سے جنگی اقدام کا امکان دوبارہ نمایاں ہوتا۔

یہ سب ایک ایسے مرحلہ وار لیکن تیز پراسس کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد اچانک “نظام کے بکھرنے” کا تاثر عوامی ذہن اور حکمران حلقوں کے ایک حصے میں ڈالنا ہو۔ اسی کے ساتھ ان واقعات کو وینزویلا کے صدر کے اغوا کے بارے میں زور شور سے پھیلائی گئی خاص کہانی کے ساتھ جوڑنا، اور پھر یہ تاثر دینا کہ ایسا ہی کوئی واقعہ ایران کے ساتھ بھی دہرایا جا سکتا ہے، اس منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے کہ ایک ہی وقت میں “انتشار” کا تصور عوام میں پھیلا دیا جائے۔ ایک اور مفروضہ یہ بھی ہے کہ ٹرمپ اور صہیونی حکام کی یہ کھلی دھمکیاں اور بیانات شاید اتنے اثر کے لیے نہیں تھے جتنا کہا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ صرف ایک بہانہ تھا تاکہ ایران اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف مزید نئے اقدامات کیے جا سکیں۔ ان نئے اقدامات کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے، یہ بحث طلب ہے، لیکن ملک کے اندر اس کے تمام ممکنہ پہلوؤں کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ملک کے اعلیٰ حکام، جن میں صدر، اسپیکر، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری، اور وزارت خارجہ کے عہدیدار شامل ہیں، سب کے مؤقف یہی ہیں کہ ہر ممکن پہلو کو دیکھا جا رہا ہے۔ اسی انداز سے ایران نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ امریکہ اور صہیونی فریق کے ممکنہ نئے اقدامات کا مقابلہ پہلے سے زیادہ سنجیدگی اور مضبوطی سے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے مقابلے میں ہنگامہ آرائی کے طور پر جا رہا ہے ایران کے کے ساتھ سکتا ہے کے لیے ہیں کہ

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے