میر حمزہ کا فرسٹ کلاس کرکٹ میں نمایاں سنگِ میل، اہم اعزاز اپنے نام کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لیفٹ آرم ٹیسٹ فاسٹ بولر میر حمزہ نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں شاندار کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے ایک اور بڑی کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔
پریزیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون میں غنی گلاس کی نمائندگی کرتے ہوئے میر حمزہ نے 500 فرسٹ کلاس وکٹیں مکمل کر کے ملکی ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام نمایاں کر لیا۔
یہ اعزاز انہوں نے اسٹیٹ بینک کے خلاف کھیلے گئے میچ میں حاصل کیا، جہاں انہوں نے دونوں اننگز میں مؤثر بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر سات کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ پہلی اننگ میں دو جبکہ دوسری اننگ میں پانچ وکٹیں لے کر انہوں نے اپنی تجربہ کار اور جارحانہ بولنگ کا بھرپور اظہار کیا۔
اگرچہ غنی گلاس کو اس مقابلے میں کامیابی نہ مل سکی، تاہم میر حمزہ کی انفرادی کارکردگی میچ کا نمایاں پہلو رہی اور شائقینِ کرکٹ نے ان کی لائن اور لینتھ کی خوب داد دی۔ ان کی بولنگ میں تسلسل، نظم و ضبط اور دباؤ میں کارکردگی ایک بار پھر نمایاں دکھائی دی۔
واضح رہے کہ میر حمزہ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے سات ٹیسٹ میچز میں شرکت کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے 14 وکٹیں حاصل کیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں 500 وکٹوں کا سنگِ میل عبور کرنا ان کے طویل اور کامیاب کیریئر کی عکاسی کرتا ہے، جو نوجوان فاسٹ بولرز کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔