ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسٹیبلشمنٹ کے حکومت سے ممکنہ مذاکرات پر واضح جواب دے دیا۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمارا کام سیاسی جماعتوں سے بات کرنا نہیں، جس سیاسی جماعت نے بات کرنی ہے حکومت سے کرے۔

مزید پڑھیں: مذاکرات صرف میڈیا کی زینت ہیں، کوئی حقیقی پیشرفت نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف

انہوں نے کہاکہ ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی ایشو نہیں، ہمارا کام سیکیورٹی پر بے لاگ رائے دینا ہے۔

عمران خان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وہ اتنا بااختیار وزیراعظم تھا کہ اس نے وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، اس وقت کی حکومت ایک شخص کے گرد گھومتی تھی، جس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کردیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے نہیں کرنے دیں گے، کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنانا ہے؟

احمد شریف چوہدری نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں اور سیکیورٹی فورسز ایک مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں، اور اس قومی بیانیے سے ہمیں کوئی بھی ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، اگر دہشتگردوں کے خلاف آپریشن نہیں کرنا تو کیا ان کے پیروں میں بیٹھنا ہے۔

مزید پڑھیں: مذاکرات کی بازگشت مگر اڈیالہ ملاقاتیں تاحال خارج از امکان

خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جو حکومت ہوتی وہی ریاست ہوتی ہے ، حکومت کو ہم سے بہتر پتا ہے معلومات لینے کے لیے ان کے پاس  اور بھی ذرائع ہوتے ہیں، گورنرراج لگانا یا نہ لگانا ان کا فیصلہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ڈی جی آئی ایس پی آر سیاسی جماعتیں مذاکرات وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر سیاسی جماعتیں مذاکرات وی نیوز ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر انہوں نے کہاکہ

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن