اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ جاری ہے اور حالیہ انکشاف نے اس پیشرفت کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا استعمال، ملازمین پر نئے نفسیاتی دباؤ کا خدشہ
گوگل جیمنی سے وابستہ ایک پرنسپل انجینیئر ڈوگن نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی ٹیم نے کلاڈ کوڈ کی مدد سے ایسا مسئلہ حل کر لیا جس پر وہ تقریباً ایک سال سے کام کر رہی تھی۔
انجینیئر کے مطابق اے آئی نے محض ایک گھنٹے میں ایک ایسا قابل استعمال پروٹوٹائپ تیار کر دیا جو اس حل سے کافی حد تک مماثل تھا جسے تیار کرنے میں گوگل کی ٹیم کو 12 ماہ کی منصوبہ بندی اور اندرونی رابطہ کاری درکار تھی۔
یہ تجربہ اس وقت شروع ہوا جب انجینیئر ڈوگن نے اے آئی کو ایک ایسے مسئلے کی بنیادی وضاحت فراہم کی جس سے ان کی ٹیم طویل عرصے سے نبرد آزما تھی۔
یہ مسئلہ دراصل ڈسٹری بیوٹڈ ایجنٹ آرکسٹریشن سسٹم کی تیاری سے متعلق تھا جسے سادہ الفاظ میں ایک ایسا ٹریفک کنٹرول سسٹم کہا جا سکتا ہے جو بیک وقت کام کرنے والے کئی اے آئی ایجنٹس کو منظم کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے خطرناک استعمال کا انکشاف
صرف 3 پیراگراف پر مشتمل ایک مختصر پرامپٹ کے ذریعے اور بغیر کسی اندرونی بحث یا تاخیر کے اے آئی نے ایسا پروٹوٹائپ تیار کیا جو گوگل کے سال بھر میں تیار کردہ حل کے قریب تر تھا۔
ڈوگن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ میں مذاق نہیں کر رہی ہم گوگل میں گزشتہ سال سے ڈسٹری بیوٹڈ ایجنٹ آرکسٹریٹرز بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ واقعہ اے آئی کے ارتقا میں ایک وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جہاں سنہ 2022 میں اے آئی محض کوڈ کی چند سطریں لکھنے تک محدود تھی جبکہ اب وہ پیچیدہ سافٹ ویئر آرکیٹیکچر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس پیشرفت نے انجینیئرز کے مستقبل کے کردار پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹائم میگزین نے مصنوعی ذہانت کے معماروں کو رواں سال کا ‘پرسن آف دی ایئر’ قرار دے دیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی فوری طور پر انسانی ماہرین کی جگہ نہیں لے گی تاہم سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے مراحل میں اس کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ٹیک انڈسٹری کے مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا واضح ثبوت ہے جہاں ایک سال سے درپیش تکنیکی رکاوٹ محض چند گھنٹوں میں حل ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسابقتی برتری برقرار رکھنے کے لیے کمپنیوں کو اس تیز رفتار تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی اے آئی کا کمال مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی کا کمال مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت تیار کر اے آئی
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی