مصنوعی ذہانت کا استعمال، ملازمین پر نئے نفسیاتی دباؤ کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ کام کی جگہ پر مصنوعی ذہانت یا اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال ملازمین کے لیے نئے اور بعض اوقات پوشیدہ نفسیاتی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا مستقبل: 2026 میں سامنے آنے والے اہم رجحانات
جیسے جیسے اے آئی تقریباً ہر شعبے میں شامل ہو رہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سسٹمز کی نگرانی انسانی ملازمین کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔
یہ تحقیق مائیکروسافٹ اور امپیریل کالج لندن کے محققین نے مشترکہ طور پر کی ہے اور اسے سوسائٹی آف آکوپیشنل میڈیسن کے جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق اگرچہ اے آئی اپائنٹمنٹ بکنگ اور ملازمت سے متعلق صحت کے ڈیٹا کے تجزیے جیسے کام آسان بنا دیتی ہے تاہم انسانی کردار پیچیدہ صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
امپیریل کالج لندن کی کلینیکل ریسرچ فیلو ڈاکٹر لارا شیمٹوب کے مطابق جیسے جیسے اے آئی معمول کے کام سنبھالتی جائے گی انسانوں کا کردار نگرانی، مسائل کے حل اور جذباتی محنت کی طرف منتقل ہو سکتا ہے جن سب کے اپنے نفسیاتی تقاضے ہیں۔
مزید پڑھیے: ہر معاملے میں مصنوعی ذہانت سے رجوع انسان کی ذہنی صلاحیت کس طرح متاثر کرتا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ملازمین کو بیک وقت کئی اے آئی ایجنٹس کو سنبھالنا، بدلتے ہوئے انتظامی طریقوں کے مطابق خود کو ڈھالنا اور زیادہ خودمختار سسٹمز کے نتائج کی نگرانی کرنی پڑ سکتی ہے۔
انسانی نگرانوں کے لیے نئے خطرات اور اضافی بوجھتحقیق میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ اے آئی کی جانب سے غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کا مسئلہ جسے ’ہیلوسینیشن‘ کہا جاتا ہے وقت کے ساتھ زیادہ مشکل سے پہچانا جا سکے گا۔ اس صورتحال سے ملازمین میں خصوصاً وہ افراد جو اے آئی کی نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے ذہنی دباؤ، بے یقینی اور نفسیاتی بوجھ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اداروں کواے آئی کی نگرانی سے جڑے اضافی کام اور دباؤ کو باقاعدہ طور پر ملازمت کی ذمہ داریوں میں شامل کرنا چاہیے تاکہ آٹومیشن کے فوائد پوشیدہ کام کے بوجھ کی نذر نہ ہو جائیں۔
اگرچہ اے آئی کام کی جگہ پر صحت کی سہولیات تک آسان رسائی اور ڈیٹا کے انتظام میں بہتری جیسے فوائد فراہم کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کردار کی غیر واضح نوعیت اور نئی ذمہ داریاں بھی جنم لیتی ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا ہم خبروں کے حوالے سے مصنوعی ذہانت پر اعتبار کرسکتے ہیں؟
تحقیق کے مطابق انسان اور مصنوعی ذہانت کے باہمی تعلق کو سمجھنا مستقبل میں پیشہ ورانہ صحت کا سب سے اہم میدان ثابت ہو گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت کے نفسیاتی اثرات ملازمین پر اے آئی کے نفسیاتی اثرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت کے نفسیاتی اثرات ملازمین پر اے ا ئی کے نفسیاتی اثرات مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے مطابق اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔