پشاور پھلی مارکیٹ جہاں گاہک کے سامنے پھلی بھون کر تیار کی جاتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پشاور میں فردوس کے قریب جاتے ہی ایک منفرد خوشبو کھینچ لیتی ہے، جہاں سرد موسم کی مشہور سوغات مونگ پھلی تیار کی جاتی ہے۔ فردوس کے قریب واقع پھلی مارکیٹ میں ہر قسم کے خشک میوہ جات مل جاتے ہیں، لیکن یہاں مونگ پھلی کی خصوصی تیاری کی وجہ سے یہ بازار مونگ پھلی مارکیٹ کے نام سے مشہور ہے۔
مزید پڑھیں: پیسے دیے بغیر مونگ پھلی اُٹھانے پر جھگڑا، ریڑھی بان قتل بھائی زخمی
مارکیٹ میں مونگ پھلی گاہک کے سامنے بھون کر دی جاتی ہے، اور گاہک اپنی آنکھوں کے سامنے سرد موسم میں مونگ پھلی بھنوا کر تیار کرواتے ہیں۔ یہاں سے پورے ملک اور بیرونِ ممالک تک سپلائی کی جاتی ہے۔
مونگ پھلی اور دیگر خشک میوہ جات کی تیاری سے لے کر سپلائی تک کا احوال جاننے کے لیے دیکھئے یہ ویڈیو رپورٹ
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور پشاور پھلی مارکیٹ پھلی مارکیٹ مونگ پھلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور مونگ پھلی مونگ پھلی جاتی ہے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔