انڈونیشیا میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی؛ 16 ہلاکتیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
انڈونیشیا میں مسلسل بارشوں سے دریا ابل پڑے اور ڈیم کے بند ٹوٹ گئے جس سے سیلابی ریلہ رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیلابی ریلے میں کیچڑ اور ملبہ بھی شامل ہوگیا جس نے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔
سیلاب کے تیز بہاؤ کے باعث متعدد مکانات، پل اور سڑکیں بہہ گئیں جب کہ جو علاقے سیلاب سے بچ گئے وہاں موسلادھار بارشوں سے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔
مسلسل بارشوں کے باعث بعض دیہی علاقوں میں رابطہ منقطع ہوچکا ہے جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ریسکیو ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ سیلاب اور بارشوں میں کم از کم 16 افراد جاں بحق، 18 زخمی اور 4 لاپتا ہیں۔
شمالی سولاویسی کے گورنر کا کہنا ہے کہ سیلاب سے سیکڑوں رہائشی مکانات، سرکاری عمارتیں، اسکول اور بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ان کے بقول اب تک 444 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا جبکہ متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہیں، طبی سہولتیں اور خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں، فوج اور رضاکار لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں تاہم بعض علاقوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث آپریشن سست روی کا شکار ہے۔
انڈونیشیا کے محکمہ موسمیات، آب و ہوا اور ارضیات نے خبردار کیا ہے کہ جنوری اور فروری 2026 کے دوران ملک کے کئی حصوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جاوا، سولاویسی، مالوکو اور پاپوا کے جزائر میں مزید سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور طوفانی صورتحال کا خطرہ موجود ہے۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ دریا کنارے اور نشیبی علاقوں میں غیر ضروری آمدورفت سے گریز کریں اور ہنگامی صورتِ حال میں مقامی انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا ایک ایسا ملک ہے جو ہر سال مون سون کے موسم میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے قدرتی آفات کا سامنا کرتا ہے۔
ماہرین کے بقول موسمیاتی تبدیلی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور جنگلات کی کٹائی ان آفات کی شدت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.
People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.
Living conditions remain…
— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں