سہیل آفریدی کا دورہ کراچی، پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت طلب کرلی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے دوران مزار قائد پر جلسے کی اجازت طلب کرلی۔
اس سلسلے میں پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجا اظہر نے ڈپٹی کمشنر شرقی کو مزار قائد پر جلسے کے لیے خط لکھا۔
کراچی جلسہ کی اجازت ؟؟؟
پی ٹی آئی کراچی نے ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ ایسٹ کراچی کو مزار قائد پر جلسہ کی اجازت کے لیے درخواست جمع کرائی۔۔۔#سٹریٹ_موومنٹ_کی_تیاری_پکڑیں#اڈیالہ_کے_باہر_دس_ہزار#اڈیالہ_پہنچو_خان_کی_خاطر pic.
— PTI کراچی والا (@imshoaibpti) January 6, 2026
خط میں راجا اظہر نے بتایا کہ 11 جنوری کو سہیل آفریدی جلسہ خطاب کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے اجازت دی جائے۔
راجا اظہر نے خط میں یقین دہانی کرائی کہ پی ٹی آئی کا جلسہ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے مثبت فیصلے کا انتظار ہے تاکہ جلسے کا انعقاد ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لاہور کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں سیاسی سرگومیوں سے روکا گیا جو جمہوری روایات کے خلاف ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اجازت طلب سہیل آفریدی کراچی جلسہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی کراچی جلسہ وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز پی ٹی آئی کی اجازت کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔