سوشل میڈیا کے ذریعے بیانیے کو فروغ دینگے، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مثبت، تعمیری اور حقیقت پر مبنی بیانیے کو فروغ دیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا معاشرے میں انتشار، عدم استحکام اور تشدد کو جنم دیتا ہے، جس کا مؤثر تدارک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ معاشرے کے تمام طبقات خصوصاً نوجوانوں کو درست سمت دکھانا اور انہیں حقائق سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم کے بورڈ آف گورننس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ اور ڈی جی لیویز عبدالغفار مگسی سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ سینٹر آف ایکسیلینس تحقیق، آگاہی اور انسداد تشدد کے لیے ایک مؤثر اور مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہوگا، جو انتہاء پسندانہ رجحانات کے سدباب اور مثبت بیانیے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ انتہاء پسندی کے تدارک کے لیے ادارہ جاتی تعاون، مربوط حکمت عملی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اقدامات ناگزیر ہیں۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مثبت، تعمیری اور حقیقت پر مبنی بیانیے کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ نوجوان نسل کو گمراہ کن عناصر کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن و امان کے قیام کے لیے نوجوانوں کی شمولیت اور شعور بیداری ناگزیر ہے اور صوبائی حکومت اس حوالے سے جامع اقدامات کر رہی ہے۔ اجلاس میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، انتہاء پسندی کے خلاف جاری اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اور متعلقہ اداروں کو مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ اقدامات کی ہدایت کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔